پنجاب کے ضلع میانوالی میں 13 سالہ لڑکی کو اس کے چچا زاد بھائی نے ’بغیر حجاب گھر سے باہر نکلنے پر‘ 7 گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ میانوالی کے علاقے بٹیاں میں 15 اکتوبر کو پیش آیا جس کی ایف آئی آر مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ صدرمیں درج کی گئی۔
پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ”ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کے لیے تفتیش کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔“
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ، ایک بیٹے اور 2 بیٹیوں کے ہمراہ خریداری کیلئے جارہے تھے کہ مدینہ چوک بٹیاں کے قریب ان کا بھتیجا اچانک سامنے آگیا۔
درخواست گزار کے مطابق بھتیجے کے ہاتھ میں 30 بور پستول تھا۔ اس نے مبینہ طور پر لڑکی کو حجاب کے بغیر گھر سے باہر نکلنے پر دھمکی دی اور یکے بعد دیگرے 7 فائر کیے جس سے مقتولہ جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگنے کے باعث موقع پر جاں بحق ہوگئی۔
پولیس رپورٹ میں درج بیان کے مطابق مقتولہ کے والد نے الزام عائد کیا کہ ملزم پہلے بھی ان کی بیٹی کو حجاب کے بغیر گھر سے باہر نکلنے سے منع کرتا تھا اور اسی معاملے پر اختلافات تھے۔
مدعی کے مطابق فائرنگ کے بعد انہوں نے اپنے ساتھی کے ہمراہ ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی تاہم وہ فرار ہوگیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق واقعے کا مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 311 کے تحت درج کیا گیا۔ دفعہ 302 قتل جبکہ دفعہ 311 غیرت کے نام پر قتل سمیت مخصوص حالات میں قصاص سے متعلق قانونی کارروائی سے متعلق ہے۔
6 ماہ میں غیرت کے نام پر 132 قتل
غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے پہلے 6 ماہ (جنوری تا جون) میں ملک بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3172 واقعات سامنے آئے جن میں 132 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات شامل تھے۔
پنجاب کی صورتحال سب سے زیادہ خراب رہی جہاں سال 2026 کے دوران بھی پنجاب میں خواتین پر تشدد اور غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے تناسب میں بڑا حصہ دیکھا گیا جہاں 74 فیصد کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے۔
رواں مہینے خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ میں ایک نوجوان مرد اور خاتون کے الگ الگ قتل کے مقدمات کی تفتیش میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ان کے اپنے بھائیوں نے قتل کیا اور لواحقین نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
اگست 2026 میں پنجاب کے شہر راولپنڈی میں پولیس نے ٹک ٹاکر عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں اُن کے والد سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے اسے مبینہ غیرت کے نام پر قتل قرار دیا گیا تھا۔
جولائی میں خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان کی تحصیل داسو میں غیرت کے نام پر ایک پولیس اہلکار اور ایک 22 برس کی خاتون کو قتل کیا گیا تھا جس کے الزام میں خاتون کے شوہر، والد اور بھائی سمیت 7 ملزمان کے خلاف دوہرے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پچھلے سال جولائی میں راولپنڈی کے علاقے فوجی کالونی میں جرگے کے حکم پر سدرہ نامی خاتون کو غیرت کے نام پر ان ہی کے اہلخانہ نے قتل کر دیا تھا۔



