ایرانی پارلیمنٹ نے مہر داد اخلاقی کو وزیر دفاع مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔ اس تقرری کے ساتھ وزارت دفاع میں کئی ماہ سے جاری عبوری انتظام کا خاتمہ ہو گیا۔
یہ عہدہ رواں سال فروری میں سابق وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ کی 28 فروری کے امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد خالی ہو گیا تھا، جس کے بعد عارضی طور پر مجید ابن الرضا قائم مقام وزیر دفاع کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ مجید ابن الرضا کو اب ملک میں دفاعی پیداوار اور اسلحے کی خریداری کے نظام کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مہرداد اخلاقی نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا، 277 ارکان پارلیمنٹ میں سے 237 نے اخلاقی کے حق میں جبکہ 15 نے مخالفت میں ووٹ دیا، صدر مسعود پزشکیان نے رواں ماہ کے آغاز میں اخلاقی کا نام اعتماد کے ووٹ کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔
اخلاقی کو دفاعی صنعت کی انجینئرنگ، میزائل ٹیکنالوجی میں تجربہ حاصل
رائٹرز کے مطابق مہرداد اخلاقی کو دفاعی صنعت کی انجینئرنگ اور میزائل ٹیکنالوجی میں تجربہ حاصل ہے اور ملک کے ایرو اسپیس اور میزائل شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ایران کے دفاعی شعبے میں ان کے کردار کے باعث امریکا اور یورپی یونین نے ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مہرداد اخلاقی نے ایرانی پارلیمنٹ کے ورچوئل اجلاس کے دوران ارکان کے سامنے ملک کے فوجی و صنعتی ڈھانچے کی ازسرِنو تعمیر، دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی میں تیزی لانے اور نجی شعبے کی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عہد کیا۔
انہوں نے کہا، ”اگر امریکی دشمن نے دوبارہ کوئی غلط اندازہ لگایا تو بہادر ایرانی عوام اور اسلام کے مجاہدین کا ردعمل حیران کن اور وسیع پیمانے پر ہو گا۔“
ان کا مزید کہنا تھا کہ تہران نے ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے ”تمام بموں کی ماں“ استعمال کیے جانے کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔
’امریکی افواج خطے سے نکل جائیں‘
اخلاقی نے کہا کہ ”امریکی صدر کو اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے کہ ان کی افواج ہمارے خطے سے نکل جائیں۔ اگر انہوں نے ایک بھی بم گرایا تو انہیں دیکھنا ہو گا کہ ان کے کتنے فوجی اس خطے سے ہلاک یا زخمی حالت میں باہر لے جائے جاتے ہیں۔“
خیال رہے کہ سی این این نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا نے ممکنہ طور پر ایران کیخلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں صدر ٹرمپ کے حکم پر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے جی بی یو 43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم جسے ”تمام بموں کی ماں“ بھی کہا جاتا ہے، کا استعمال شامل ہو سکتا ہے۔



