ایران نے امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے مطالبات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا تاہم وہ نہ غیر معینہ مدت تک جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات میں الجھنا چاہتا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کا مقصد ایسا پائیدار دفاعی توازن قائم کرنا ہے جو مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کر سکے۔
قالیباف نے امریکا کے دباؤ اور مقررہ ڈیڈ لائنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی مہلتیں گزر چکی ہیں جن میں ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششیں بھی شامل ہیں لیکن ان اقدامات کے باوجود ایرانی نظام بدستور کام کر رہا ہے۔
‘امریکا کو سزا ملنی چاہیے’
ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی اور مذاکرات دونوں دشمن کو باز رکھنے کے ذرائع ہیں، تاہم امریکا کو ایران کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے سزا بھی ملنی چاہیے اور اسے رعایتیں بھی دینا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ جاری رکھنے اور کشیدگی بڑھانے سے بھی لازمی طور پر دشمن کو مستقبل میں مزید دھمکیاں دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایران کی حکمت عملی میں فوجی تیاری اور مذاکرات دونوں شامل ہونے چاہئیں تاکہ دیرپا دفاعی توازن قائم کیا جا سکے۔
‘دشمن کو حملے سے باز رکھنے کیلیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں’
قالیباف نے زور دیا کہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے داخلی اور علاقائی صلاحیتوں کے وسیع تر مجموعے کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے ایران کی بڑھتی ہوئی فائر پاور، جارحانہ صلاحیتوں اور فضائی دفاعی نظام میں بہتری کو فوجی حکمت عملی کا اہم اجزا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مقصد ایران کو اس قدر مضبوط بنانا ہے کہ امریکا اور خطے کے دیگر ممالک سمیت عالمی طاقتیں فوجی حملوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکیں۔ ایران کو ضرورت پڑنے پر پوری طاقت کے ساتھ اپنے دفاع کے لیے تیار رہنا چاہیے، جبکہ سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھا کر فوجی کامیابیوں کو مستحکم اور قومی مفادات کا تحفظ بھی کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی کامیابیوں کو سیاسی اور قانونی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے، جبکہ مذاکرات کے ذریعے ایران کو اپنی صلاحیتیں مضبوط بنانے کے لیے درکار وقت اور وسائل حاصل ہونے چاہئیں۔



