سعودی عرب کے علاقے نجران میں اے ایچ-6 آئی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں سعودی اتحاد فورس کے 2 ارکان جاں بحق ہو گئے۔
ہیلی کاپٹر گرنے کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں بتدریج اضافہ دیکھا جارہا ہے، ان حملوں میں ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ہیلی کاپٹر حادثے میں عملے کے دو ارکان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ تاہم انہوں نے حادثے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
https://t.co/uX3M9vLPBA
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 18, 2026
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہیلی کاپٹر سعودی وزارت نیشنل گارڈ کے دائرۂ اختیار میں آنے والے علاقے میں گر کر تباہ ہوا۔
رائٹرز کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ یمن میں قائم گروپ کی فورسز نے نجران کے قریب سعودی عرب کا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔
یحییٰ سریع کے مطابق ہیلی کاپٹر سرحد کے ساتھ حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائیاں کر رہا تھا۔
تین دن قبل سعودی اتحادی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ مدینہ میں کروز میزائل کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب حوثی فوج نے مدینہ پر حملے کی تردید کی تھی۔
سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے سعودی سرزمین کی طرف داغے جانے کے فوری بعد اس کروز میزائل کا سراغ لگایا، اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور مدینہ ریجن میں اسے مار گرایا۔
سعودی اتحادی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتحادی کمانڈ دشمن کے فضائی اہداف کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی مستعد اور مکمل چوکس ہے۔



