وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنس کی بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں جاری ہوئی اور امریکا میں بیٹھے لوگوں کو بھی نوازا گیا۔
سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختنوخوا میں دفاعی اداروں کی معدنیات کی کوئی ملکیت نہیں۔
ان کا یہ بیان خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے معدنی وسائل پر اختیار کے معاملے پر جاری بحث کے دوران آیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگائے جانے کے بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی، اور جمیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ اس اقدام کے ذریعے صوبے کے انتظامی اور سیاسی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر اس کے قدرتی وسائل، خصوصاً معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزراء کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون اور امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کے پیش نظر کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی قلابازیوں کو لیڈ کر رہے ہیں ، پرویز مشرف کے دور میں وہ ان کے اتحادی تھے، سیاسی اختلافات اور اتحاد دنیا بھر میں ہوتے ہیں، لیکن اصولوں کی بنیاد پر مؤقف میں تبدیلی اور ذاتی مفادات کے لیے سیاسی قلابازیاں لگانے میں فرق ہے۔ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کل ایک شخص کہتا تھا کہ فضل الرحمان کو مولانا کہنا گناہ ہے، کل اس پارٹی کے شخص نے کہا کہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ مولانافضل الرحمان ان کے ساتھ ہیں، ہم سیاست دان اپنی تکریم اور عزت مٹی میں خود رولتے ہیں، اچھی بات ہے کہ کل کے دشمن آج دوست ہونے چاہئیں۔
’جو کہتے تھے آسمان روئے گا اور زمین پھٹ جائے گی، کدھر ہیں وہ آج؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ آسمان روئے گا اور زمین پھٹ جائے گی، کدھر ہیں وہ آج؟ کسی گلی محلے میں، اپنے شہر میں دیکھ لیں۔ اپنے شہر کی لیڈرشپ کے متعلق، پی ٹی ائی کی لیڈرشپ کیا کہتی ہے، وہ بھی آن ریکارڈ ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف سے 3 مرتبہ اقتدار چھینا گیا، وہ جیل گئے، ان کی بیٹی بھی قید میں گئی اور ان کی اہلیہ کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ خود قید میں تھے، لیکن انہوں نے اپنی عزت اور وقار کا سودا نہیں کیا۔
کیا گورنر راج ختم ہو سکتا ہے؟
گورنر راج کے معاملے پر خواجہ آصف نے کہا کہ اس کے نفاذ پر پارلیمنٹ غور کر سکتی ہے اور اسے ختم بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کی ضمانت ہو۔
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کو مسلسل سیاسی معاملات میں مصروف رکھا گیا، خیبر پختونخوا میں حالات سب کے سامنے ہیں لیکن امید ہے کہ اللہ کے فضل سے صوبے میں حالات بہتر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہیدوں نے اپنے خون سے تاریخ لکھی ہے ، جوانوں نے ہمارے اور آپ کے بچوں کے مستقبل کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے ایک کے بعد دوسرے دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں، پاکستان میں حالیہ سفارتی اور دیگر اہم اقدامات میں وزیراعظم شہباز شریف کا کردار اپنی جگہ اہم ہے، تاہم ان اقدامات کی قیادت اور پیشرفت میں فیلڈ مارشل کا مرکزی کردار ہے۔
قبل ازیں ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی کے ادوار میں سب سے زیادہ دیئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کہ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنس کی حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق):
قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیںاس پورے عرصے میں عسکری ادارے FWO کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں FWO تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا
اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے
مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 17, 2026
خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی، 2020 تک ایک ہزار 762، فروری 2024 تک 3 ہزار 962 اور موجودہ وقت میں کل 4 ہزار 917 مائننگ لائسنس جاری ہو چکے ہیں، ان میں سے 4 ہزار 133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس پورے عرصے میں عسکری ادارے ایف ڈبلیو او کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں ایف ڈبلیو او تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے۔



