جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہماری بات ماننے کے باوجود آخر وقت میں اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وفاقی حکومت کا عمل جمہوریت اور عوام کے حق پر شب خون ہے اور جے یو آئی اس فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی۔
وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا ہے، صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کیے، اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں آج (اتوار کو) وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اس ملک میں آئین اور انسانی حقوق کا دفاع کریں گے۔ اور ہم اس طرح کے کسی بھی غیرآئینی اقدام کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ ہم حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ، عوام اور عدالت کے فورم پر حکومتی فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں 7 اکتوبر کو جب اسلام آباد پہنچا تو اسی روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے مجھ سے ملاقات کی اور بحران کو حل کرنے کے لیے مجھے کردار ادا کرنے کا کہا۔ ملاقات میں یہ نتیجہ نکلا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگلے ہی روز اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا میرے پاس آئے جس میں تفصیلی گفتگو ہوئی تو انہوں نے بھی مجھے کردار ادا کرنے کا کہا۔ دونوں طرف کی صورتحال سامنے آئی جبکہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ جاری تھا تاہم ہماری مداخلت کے بعد لانگ مارچ کو آگے بڑھانے کے حوالے سے کوئی بڑا اعلان نہیں کیا گیا۔ اور اسلام آباد آنے کا فیصلہ زیرالتوا رکھا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملاقات کے بعد ہماری رائے تھی کہ دونوں جانب سے ایمرجنسی نہ لگانے کے حوالے سے سنجیدگی ہے۔ وزیراعظم نے ایک روز قبل ملاقات کے لیے کہا تو ہم نے باہمی مشاورت کے بعد شہباز شریف سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی رائے اور مطالبہ تھا کہ پہلے لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے تاہم پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ ہمیں عمران خان سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے اور عدالتی فیصلے پر انہیں اسپتال لایا جائے لیکن معاملہ یہ تھا کہ پہل کون کرے۔
‘پی ٹی آئی نے لانگ مارچ ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی’
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تاکہ معاملہ آگے بڑھایا جائے، پھر سہیل آفریدی سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں سے کانفرنس کال پر تفصیلی بات کی۔ جس میں انہوں نے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر لانگ مارچ ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آج صبح وزیراعظم سے ملاقات کی اور کہا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ مطالبات کی منظوری پر ختم کرنے کو تیار ہے جس پر شہباز شریف نے حامی بھری اور کہا کہ کابینہ اجلاس میں تفصیلات رکھی جائیں گی۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت ہماری بات ماننے کے باوجود اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئی، دہشتگردی کی آڑ میں صوبائی حکومت پر شب خون مارنا کسی صورت درست نہیں، حکومت نے جمہوریت کی نفی کرتے ہوئے آئین کو دفن کیا ہے۔
‘ 2010 سے اب تک ہونے والے آپریشنز کے نتائج تو بتائے جائیں’
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود دیرپا امن قائم نہ ہونے پر سابقہ حکومتوں اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر موجودہ دور تک کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار کی جانے والی کارروائیاں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے سابقہ فوجی قیادتوں کی اختیار کردہ حکمتِ عملیوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب ان کی جماعت نے آزادی مارچ کیا تھا تو بلوچستان کے دور دراز علاقوں، گلگت بلتستان، چترال، کوہستان اور دیگر علاقوں سے لوگ آئے تھے، لیکن اس وقت انہیں آج جیسی بدامنی کا سامنا نہیں تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار رات کے وقت اپنے تھانوں میں محفوظ نہیں رہ سکتے اور بعض اوقات قریبی آبادیوں کے گھروں میں رات گزارتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عسکریت پسندوں کے تشدد پر بات کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں اور کارروائیوں کی خامیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی حمایت کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، لیکن سال 2010 سے لے کر اب تک کیے گئے آپریشنز کا نتیجہ تو بتائیں۔”
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کو اپنے رہنماؤں، علما اور کارکنوں پر حملوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جن میں جماعت کے ایک اجتماع پر ہونے والا بم دھماکا بھی شامل ہے۔ ان کے بقول اس حملے میں تقریباً 90 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کے باوجود ان کی جماعت آئین، پارلیمنٹ اور سیاسی عمل کی حمایت کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) ہتھیار اٹھانے کے خلاف ہے اور تنازعات کو سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔
‘پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے کے امکانات ہیں’
اس سوال پر کہ آیا جے یو آئی (ف) پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دونوں امکانات موجود ہیں اور احتجاج مشترکہ طور پر بھی کیا جا سکتا ہے اور الگ الگ بھی۔
انہوں نے کہا، “دونوں امکانات موجود ہیں، چاہے ہم الگ احتجاج کریں یا ان کے ساتھ مل کر۔” ان کا کہنا تھا کہ مشاورت کے بعد جماعت اپنے آئندہ لائحۂ عمل کا فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت کے تنظیمی فورمز پر حکمتِ عملی طے کی جائے گی اور مشاورت مکمل ہونے کے بعد احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔
اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر، اگر پی ٹی آئی ایسا کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر یہ تجویز باضابطہ طور پر ان کے سامنے آئی تو ان کی جماعت اس پر غور کرے گی۔
انہوں نے کہا، “جب ان کی تجویز ہمارے سامنے آئے گی تو ہم مل بیٹھ کر ان معاملات پر بات کریں گے۔”
مولانا فضل الرحمان نے نے وضاحت کی کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتفاق پارلیمنٹ کے اندر مل کر کام کرنے پر ہوا تھا جبکہ پارلیمنٹ سے باہر رابطے حالات کے مطابق جاری رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا، “ہمارے رابطے جاری ہیں اور جب ملک کو ضرورت ہوتی ہے تو ہم ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”



