چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کوئی غیر معمولی تاخیر نہیں ہو رہی، اہم معاملات میں بعض اوقات وقت لگ جاتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے انتہائی ضروری ہیں، پی ٹی آئی نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوئی ہے اور آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
انہوں نے بعض پارٹی ارکان کے بیانات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ایک اہم راؤنڈ ہے اور اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدگی اور تحمل کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کور کمانڈرز کانفرنس سے متعلق سوال پر کہا کہ کور کمانڈرز کانفرنس پر ہم بات نہیں کرتے، یہ ہماری افواج پاکستان کی پریس ریلیز ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انتشار نہیں ہونا چاہیے، دہشت گردی کا خاتمہ اور آئین و قانون کی بالادستی ضروری ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے راستے میں مبینہ رکاوٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے جس طرح کوشش کی جا رہی ہے اور انتہائی اقدامات کی باتیں ہو رہی ہیں، ایسا جمہوریت میں نہیں ہونا چاہیے۔
آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے اہم ہے، سلمان اکرم راجا
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے تناظر میں ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور تاخیر کا شکار ہوا اور اجلاس مقررہ وقت پر شروع نہ ہو سکا۔
دوسرے دور میں شرکت کے لیے پالیمینٹ ہاؤس پہنچنے پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے اہم ہے، قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور ہم اس کا اعتماد اور طاقت لے کر یہاں عقل کی بات کرنے آئے ہیں اور قوم کی طاقت کو ریاست کی طاقت بنانے آئے ہیں۔
مطالبات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم بنیادی مطالبات ان کے سامنے کل بھی رکھ چکے ہیں اور آج بھی رکھیں گے۔ ہم اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی طرح کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا بنیادی مطالبہ عمران خان تک رسائی ہے اور وہ اس ملک میں شرافت اور آئین و انصاف کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
کل کے مذاکرات کا پس منظر
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اسپیکر چیمبر میں ہوا تھا۔ فریقین نے اپنے اپنے مؤقف ایک دوسرے کے سامنے رکھے، تاہم کسی حتمی اتفاقِ رائے کے بغیر مذاکرات دوبارہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مذاکرات کا اگلا دور 3 اکتوبر کو ہونا طے ہوا، جبکہ سب سے اہم پس منظر پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کی مجوزہ لانگ مارچ کال ہے۔ حکومت کی جانب سے احتجاج ختم یا مؤخر کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے ساتھ اپنی احتجاجی کال برقرار رکھی ہے۔
مذاکرات میں دیگر اہم معاملات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔ ڈان کے مطابق حکومت نے 4 اکتوبر کا احتجاج منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ سامنے آیا۔



