سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے موکل پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حاکم خان بکھر نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر علی امین گنڈاپور کی جانب سے وکیل راجا ظہور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ مقدمے میں نامزد شریک ملزم فاروق بھی عدالت میں موجود تھے۔
دورانِ سماعت وکیل راجا ظہور نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے آج عدالت میں پیش ہونا تھا، تاہم وہ پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔ اگر عدالت آج دوبارہ ان کے موکل کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہو سکے
علی امین گنڈاپور کی عدم دستیابی کے باعث کیس میں گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہو سکے، جس کے بعد عدالت نے سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی۔
علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس میں اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج ہے۔ مقدمے میں ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
واضح رہے علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہونے سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ شروع ہونے کے موقع پر نظر آئے تھے، لانگ مارچ میں شرکت کی کوشش کے دوران ان کا قافلہ واپس لوٹا، بعد میں وہ منظر سے غائب ہو گئے۔
دوسری جانب ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے رہنماؤں کیخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کئی ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دو روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے میاں غوث محمد، عادل خان بازی اور محمد جمال احسن خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے تھے، 14 اکتوبر کو اسپیکر نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور طریقِ کار 2007 کے قاعدہ 108 کے تحت ثناء اللہ خان مستی خیل اور داوڑ خان کنڈی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے۔



