وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر سنجیدہ اور محدود مؤقف اختیار کیا اور ان کی جانب سے ان اقدامات کی حد سے زیادہ مخالفت نہیں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے کبھی ان سے گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا، اس لیے ان کے بیان کو کسی مخصوص شخصیت یا جماعت سے منسلک نہیں کرنا چاہیے، ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام نے پارلیمان میں صرف اپنے جمہوری مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ وہی سیاستدان ہیں جو ماضی میں کئی دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرتے رہے اور اپنی سیاسی جماعت کے ہوائی ٹکٹ بھی اسٹیبلشمنٹ سے بنواتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سیاستدانوں کو آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانا زیب نہیں دیتا، سیاسی اختلاف اپنی جگہ تاہم غیر شائستہ زبان اور الزام تراشی کے بجائے دلائل اور حقائق کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 2024 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی خواہش تھی کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کا حصہ بنیں تاہم انہوں نے معذرت کر لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر یقین رکھنے والے سیاستدان کے لیے ایمرجنسی اور گورنر راج کی حمایت کرنا آسان نہیں ہوتا۔
’دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوں‘
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کا معاملہ ملک کے وجود کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے، اس لیے پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس جنگ میں ایک پیج پر ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران بھی یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریاست اور ملکی بقا کے لیے دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے۔ ہماری افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں اور ہم اس جنگ کی بھرپور حمایت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کے لیے شرائط عائد کرنے کے بجائے پہلے اس قومی معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے اور اس کے بعد دیگر سیاسی معاملات پر بات کی جائے۔ ان کے مطابق شرائط کے ساتھ سیاسی کردار ادا کرنے کی بات ہی پہلے معاملات کو خراب کرنے کا سبب بنی تھی۔
رانا ثناء اللہ نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور تربیتی کیمپوں کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
’سہیل آفریدی کو محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انہیں اگر مگر چھوڑ کر محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو ایسی شرط نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ واپس آئیں تو انہیں دوبارہ وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ پہلے انہیں آکر ساتھ کام کرنا چاہیے پھر باقی معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق ملاقاتوں اور اسپتال سے متعلق معاملات پر عمل درآمد کے لیے حکومت اب بھی تیار ہے۔ اگر تحریک انصاف آئینی اور قانونی کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو تو اسے سیاسی عمل میں واپس آنا چاہیے۔
دو ماہ بعد پارلیمان صوبائی اسمبلی کے کردار کا جائزہ لے گی
رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ صوبائی اسمبلی کو پارلیمان نے 60 دن کے لیے معطل کیا ہے اور دو ماہ بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا صوبائی اسمبلی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کا راستہ اس لیے اختیار کیا کیونکہ ان کے بقول کوئی دوسرا آپشن باقی نہیں رہا تھا اور یہ اقدام ناگزیر ہو گیا تھا۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون ضروری ہے۔



