وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرنے والے آج انگلیاں نہ اٹھائیں۔
وزیر داخلہ نے لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی سیاستدان ہیں جو ماضی میں کئی دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرتے رہے اور اپنی سیاسی جماعت کے ہوائی ٹکٹ بھی اسٹیبلشمنٹ سے بنواتے تھے۔ واضح رہے کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کا نام نہیں لیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایسے سیاستدانوں کو آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانا زیب نہیں دیتا، سیاسی اختلاف اپنی جگہ تاہم غیر شائستہ زبان اور الزام تراشی کے بجائے دلائل اور حقائق کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی رہنماؤں کو آج سابق فاٹا کے اضلاع کے وسائل کے معاملے پر بہت تشویش ہو رہی ہے لیکن جب کئی سال تک سابق فاٹا کے اضلاع کو ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا تھا تو اس وقت یہ لوگ خاموش کیوں تھے؟ انہیں اس وقت سابق فاٹا کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا کیوں یاد نہیں آیا؟
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سابق فاٹا کے عوام کے حقوق اور وسائل کا معاملہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے، اس معاملے پر سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر عوام کے جائز حقوق کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، سیاسی رہنماؤں کو آگ بھڑکانے اور انتشار پھیلانے کے بجائے امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت سیاسی محاذ آرائی کی نہیں بلکہ امن، استحکام اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی رہنماؤں کو صوبے میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
’ایمرجنسی اور گورنر راج سے بچنے کیلئے آخری وقت تک کوشش کی‘
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ روز خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت آخری وقت تک اپوزیشن اور خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتی رہی تاکہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی نوبت نہ آئے، ان کے مطابق وفاقی حکومت مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوئی اور نہ ہی دوسری جانب پر کوئی غیرمعقول ڈیڈ لائن مسلط کی گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر دوہری پالیسی نہیں اپنائی جا سکتی، ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر قیادت کرنی چاہیے، جبکہ وفاق ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
مذاکرات میں عمران خان سے متعلق معاملات
محسن نقوی کے مطابق مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے بانی کے طبی معائنے اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں سمیت بعض مطالبات پر سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مختلف معاملات پر لچک دکھائی، لیکن مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
محسن نقوی نے خطاب کے دوران دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنانے کا منصوبہ زیرِ بحث آیا تھا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سکیورٹی فورسز کے ساتھ آپریشنز میں شریک نہیں ہوئے اور سیاسی نقصان کے خدشے کا اظہار کرتے رہے۔



