وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سینئر سیاستدان مولانا فضل الرحمان خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مریم نوازنے کہا کہ خیبرپختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے بجائے ان کی حمایت افسوسناک ہے، جن لوگوں کی حمایت کی جارہی ہے، کیا وہ 13 سال میں کسی شہید کے جنازے میں شریک ہوئے؟
مریم نوازنے الزام عائد کیا کہ جن لوگوں کی حمایت کی جارہی ہے، انہوں نے دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں وسائل اور پناہ گاہیں فراہم کیں اورصوبے کی زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دی۔
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 16, 2026
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبرپختونخوا میں نااہلی کے انبارلگا دیے اورصوبے کے عوام کی زندگیاں تباہ کرکے انہیں دہشت گردی کی نذر کردیا، صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اوراحتجاجوں پرخرچ کردیے گئے جبکہ 13 قیمتی سال کرپشن اور نااہلی کی نذر ہوگئے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے آرمی چیف سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
مریم نوازنے کہا کہ پاک فوج کے افسراورجوان دہشت گردی ختم کرنے کے لیے اپنے سینوں پرگولیاں کھا رہے ہیں، ہر روز کوئی ماں، بہن یا بیوی اپنے پیارے کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا دیکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہدا کو سلام پیش کرنے کے بجائے دہشت گردی کے حامیوں کا ساتھ دینا مولانا فضل الرحمان کے شایان شان نہیں، ان کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں اور ان کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ جن لوگوں کی حمایت میں مولانا فضل الرحمان آج کھڑے ہیں، وہ ماضی میں ان کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرتے اورذاتی حملے کرتے رہے ہیں، دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی سمجھ سے باہر ہے۔
مریم نواز نے اپنے بیان میں خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اپنی حکومت کے خاتمے کی ذمہ دار تحریک انصاف خود ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجی اہلکاروں اور دیگر شہدا کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور دہشت گردی کے ذمہ داروں کی حمایت کے بجائے ان کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کو اس طرح کے بیانات زیب نہیں دیتے، عظمیٰ بخاری
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سنجیدہ سیاستدان کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیانات افسوسناک اور ناقابل قبول ہیں، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس طرح کے بیانات زیب نہیں دیتے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اپنے بیان پر پشیمانی کا اظہار کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے بیان پر قوم میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، دہشت گردوں کے حامیوں کی حمایت افسوسناک ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت ماضی میں متعدد بار دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں دہشت گردی کے معاملے پر غیر سنجیدہ گفتگو سے گریز کرنا چاہیے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن سیاست کرتے ہوئے اداروں اور شہدا کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان غیر سنجیدہ بیانات دے کر کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ ان کے بقول مولانا کے سابقہ بیان پر بھی قوم نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔
سابق فاٹا کی محرومیوں کی ذمہ داری کس پر ہے؟
عظمیٰ بخاری نے سابق فاٹا کے اضلاع کی محرومیوں کے معاملے پر کہا کہ ان علاقوں میں فنڈز اور ترقیاتی کام نہ ہونے کے بارے میں سوال بانی پی ٹی آئی سے کیا جانا چاہیے، ان کے مطابق سابق فاٹا کی محرومیوں کی ذمہ دار وفاقی حکومت نہیں بلکہ تحریک انصاف ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کی پالیسیاں دہشت گردی کے معاملے پر بھی قابلِ اعتراض رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سابق فاٹا کے عوام کے حقوق اور ترقیاتی وسائل کے معاملے کو سیاسی بیانات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق مؤقف
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ وفاقی حکومت نے شوق سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا بلکہ ان کے بقول یہ اقدام تحریک انصاف کی دہشت گردی سے متعلق پالیسیوں کے باعث کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے تحریک انصاف کو دہشت گرد تنظیموں کی ’بی ٹیم‘ بھی قرار دیا۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان پر نظرثانی کریں اور اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کریں



