سینیٹر و سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ 10 ماہ پہلے بتائی گئی چار چیزوں میں سے تین ہوچکی ہیں جبکہ ایک بات پر آج بھی قائم ہوں، سسٹم ری بوٹ ہوچکا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام ”کوئسچن آور“ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے 10 ماہ پہلے گورنر راج، ایمرجنسی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی اور پابندی لگنے کی بات کی تھی، ان چار میں سے تین چیزیں ہوچکی ہیں جبکہ ایک بات پر وہ آج بھی قائم ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ سسٹم ری بوٹ ہوچکا ہے اور اگر آئین و قانون کے مطابق چلنا ہے تو پھر سب کچھ آئین و قانون کے مطابق دکھایا جائے گا۔
جمہوریت کو ری بوٹ کرنے کا مطلب اسے مزید طاقتور بنانا ہے، وہ نہ مارشل لا چاہتے ہیں اور نہ صدارتی نظام، بلکہ جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ جمہوریت کو ری بوٹ کرنے کی بات کرتے ہیں تو ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ پارٹ ون ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے ملک میں سیاسی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سال میں صرف ایک صوبے کو پکڑا گیا جبکہ باقی صوبوں میں بھی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ تعلیم کے شعبے میں خیبرپختونخوا سے بھی نیچے ہیں، عوام کو صحت، تعلیم، آٹا، دودھ اور چینی چاہیے، انہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ حکمران کیا کرتے ہیں، عوام کو صرف کام چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو لوگ غریب عوام کی خدمت کے لیے آئے تھے، وہ آج ارب پتی بن چکے ہیں جبکہ عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے اور حکمران خود ارب پتی ہوگئے ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ ڈنڈے، جھنڈے اور پریس کانفرنس کی سیاست سے اب کام نہیں چلے گا، حکمرانوں کو عوام کے لیے عملی طور پر کام کرکے دکھانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران عوام کے لیے کام کریں گے تو لوگ انہیں سر پر بٹھائیں گے، بصورت دیگر انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ جمہوریت کو ری بوٹ کرنے کا مقصد نظام کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید طاقتور بنانا ہے وہ جمہوری نظام کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے مارشل لا یا صدارتی نظام کی حمایت نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو سیاسی نعروں اور پریس کانفرنسوں کے بجائے بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کو صحت، تعلیم اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی فراہمی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
فیصل واوڈا کے مطابق اب سیاسی قیادت کو اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہوگی اور عوامی مسائل حل کرنا ہوں گے، کیونکہ عوام کو وعدوں کے بجائے عملی اقدامات درکار ہیں۔



