وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کی تمام تر توجہ اس وقت صوبے میں عوامی خدمات کی فراہمی اور سروس ڈیلیوری بہتر بنانے پر ہے، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں دو روز تک تفصیلی بحث ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اپنا مؤقف پیش کیا، جبکہ ان کے بقول اپوزیشن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کا بنیادی مؤقف یہ رہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قابلِ قبول نہیں کہ صوبے میں لوگ دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہوتے رہیں اور صوبائی حکومت ان واقعات کی مذمت تک نہ کرے۔
’سہیل آفریدی کے خلاف کارروائی سے متعلق فیصلہ ہونا ہے‘
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے معاملے میں یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ان پر کیا الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں اور ان کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی ممکن ہے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس مرحلے پر پارٹی پر پابندی لگانے یا اس بارے میں حتمی رائے دینا مناسب نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ بطور وزیر ان کا کام معلومات فراہم کرنا ہے، اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرنا نہیں۔
فیصل واوڈا کے بیان پر تبصرے سے گریز
فیصل واوڈا کے حالیہ بیانات سے متعلق سوال پر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ان باتوں کا جواب خود فیصل واوڈا ہی دے سکتے ہیں، وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس اقدام کے بعد صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کیے گئے اور صوبے کے معاملات چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی۔
وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اس اقدام کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اسے چیلنج کیا ہے۔
ایڈوائزری کونسل کے قیام کے بعد حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کی ترجیحات میں امن و امان کی بحالی، صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کی بہتری شامل ہیں۔ عطا اللہ تارڑ کے تازہ بیان میں بھی سروس ڈیلیوری کو کونسل کی بنیادی توجہ قرار دیا گیا ہے۔



