کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن، اتحاد ٹاؤن کی نواب کالونی میں کھلے نالے میں گر کر کمسن بچہ جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق متوفی بچے کی شناخت پامان کے نام سے ہوئی ہے، جس کی عمر تین سے چار سال کے درمیان تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق بچہ گھر کے قریب کھیلتے ہوئے کھلے نالے میں جا گرا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والا بچہ اتحاد ٹاؤن کی نواب کالونی کا رہائشی تھا اور چار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔
واضح رہے کراچی میں اس سے قبل بھی کھلے مین ہولوں اور نالوں میں بچوں اور بڑوں کے گرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن سے قیمتی جانی نقصان ہوا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جس نالے میں بچہ گر کر جاں بحق ہوا وہ کچرے سے بھرا ہوا تھا، جس کے باعث علاقے میں نکاسیٔ آب اور کھلے نالوں کی صورت حال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کھلے نالے بچوں کے لیے خطرہ
واقعے نے ایک بار پھر رہائشی علاقوں میں کھلے نالوں اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث بچوں کی جانوں کو لاحق خطرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ کھلے نالوں کو ڈھانپنے اور کچرے کی بروقت صفائی کے اقدامات ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے اہم ہیں۔
بلدیہ ٹاؤن کے علاقے اتحاد ٹاؤن کی نواب کالونی میں کھلے نالے میں گر کر کمسن بچے پامان کی ہلاکت نے شہر میں کھلے نالوں اور بغیر ڈھکن کے مین ہولز کے باعث پیش آنے والے حادثات کی یاد تازہ کردی ہے۔
کراچی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، شہر کے مختلف علاقوں میں کھلے مین ہولز اور نالوں میں گرنے کے باعث بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات بارہا سامنے آ چکے ہیں۔
2026 کے چند واقعات
رواں سال بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ، جن میں سے ایک مارچ 2026 میں پیش آیا جس میں سہراب گوٹھ کے علاقے فقیرہ گوٹھ میں تین سالہ احسن کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگیا تھا۔
جولائی 2026 میں مچھر کالونی کے قریب کھلے نالے میں گرنے والے چار سالہ شاہ ویز کی تلاش کے دوران اسے بچانے کی کوشش کرنے والا ایک 17 سالہ نوجوان بھی ڈوب کر جاں بحق ہوگیا تھا۔
ستمبر 2026 میں ماڑی پور روڈ کے قریب اگرا تاج کالونی میں نو سالہ ایان کھلے نالے میں گر کر جاں بحق ہوا۔ پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق بچے کی لاش اگلے روز نالے سے برآمد ہوئی۔
حفاظتی انتظامات اور بلدیاتی ذمہ داری پر سوالات
کھلے نالوں، ٹوٹے ڈھکنوں اور کچرے سے بھرے نکاسیٔ آب کے راستوں کے باعث رہائشی علاقوں میں بچوں کی سلامتی کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔ خصوصاً گنجان آباد محلوں میں جہاں بچے گلیوں میں کھیلتے ہیں، وہاں نالوں کو ڈھانپنا، خطرناک مقامات پر حفاظتی رکاوٹیں لگانا اور کچرے کی باقاعدہ صفائی کرنا اہم ہے۔
پامان کی ہلاکت کے بعد بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کھلے نالوں کی نشاندہی، ان کی مرمت اور حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ذمہ داری رکھنے والے ادارے ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔



