کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس شیر شاہ اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔
پچھلے 2 ہفتوں کے دوران مسافر ٹرینوں کو پیش آنے والا یہ چوتھا واقعہ ہے، 30 ستمبر کو راولپنڈی سے کراچی جانے والی مسافرٹرین پاکستان ایکسپریس کی ایک بوگی کھاریاں کے قریب پٹری سے اتر ی تھی۔ اگلے ہی دن کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس جبکہ پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس پٹری سے اتریں۔
ریلوے انتظامیہ کے مطابق رحمان بابا ایکسپریس میں 500 سے 600 لوگ سوار تھے، اب تک 13 بوگیاں کلیئر کر دی گئی ہیں، مزید بوگیوں میں آپریشن جاری ہے۔
ریلوے انتظامیہ نے مزید بتایا کہ ایک بوگی کو کاٹ کر مسافروں کو نکالا جا رہا ہے، ٹریک کی بحالی کا کام آپریشن مکمل ہونے کے بعد شروع ہو گا۔
ڈائریکٹر پبلک ریلیشن نے بھی حادثے میں 4افراد کےجاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، بابر رضا کے مطابق انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے، زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، ٹریک کلیئر کرنے کیلئے بھی امدادی آپریشن جاری ہے۔
ترجمان ریسکیو ملتان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو نکالا جارہا ہے۔ زخمی مسافروں کو طبی امداد اور لاشوں کو نشتر اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے، ڈپٹی کمشنرملتان ڈاکٹر فیصل سلیم نے نشتر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے زخمیوں کی فوری منتقلی کے سلسلے کو مزید تیز کردیا ہے۔
شیر شاہ رحمان بابا ایکسپریس ٹرین حادثے کے فوری بعد ضلعی انتظامیہ کا ریسکیو آپریشن جاری۔۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم کی ہدایت پر تمام میشنری اور افرادی قوت جائے حادثہ پر موجود۔۔۔زخمیوں کو فوری نشتر ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ https://t.co/tIorF2TtB4— Deputy Commissioner Multan (@DC_Multan) October 13, 2026
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کیلئے جائے حادثہ پر ریلیف کیمپ قائم کرتے ہوئے مسافروں کو رہائش اور کھانے سمیت ضروری سامان کی ترسیل کے کام کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنرڈاکٹر فیصل سلیم کا کہنا ہے کہ حادثے میں زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کررہے ہیں اس کے علاوہ لواحقین کیلئے انفارمیشن ڈیسک بھی قائم کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلیم کے مطابق ابتدائی طور پر 4 افراد کے جاں بحق اور 18 مسافروں کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری جانب حادثے کے بعد کراچی سے لاہور آنے والی جعفر ایکسپریس اور تیز گام ایکسپریس کا شیڈول متاثر ہوا۔ ریلوے حکام کے مطابق دونوں ٹرینیں اپنے مقررہ وقت سے تاخیر سے لاہور پہنچیں گی،دونوں ٹرینوں کا روٹ بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے پراظہار تشویش کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کے پٹڑی سے اترنے کے واقعے پر اظہارِ تشویش۔
صدرِ مملکت کا حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی اورزخمی مسافروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار۔
صدرِ مملکت کی متعلقہ حکام کو متاثرہ مسافروں کی امداد اور ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت۔
حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کروائی جائیں: صدر
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 13, 2026
انہوں نے متعلقہ حکام کو متاثرہ مسافروں کی فوری امداد اور سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کی وجوہات کے تعین کیلئے شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔
وزیراعظم نے بھی رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد سے اظہارِ افسوس کیا۔شہبازشریف نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔


