وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیئے، سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت میں سلمان صفدر کیساتھ موجود تھے۔
سلمان صفدر نے کہا کہ خاتون کیلئے عدالتوں نے ہمیشہ نرم گوشہ رکھا ہے، نیب کا کنڈیکٹ 13 ماہ میں قابل اعتراض رہا، نیب نے کئی سماعتوں پر التواء لیا، نیب نے سزا معطلی کی درخواست پر بھی اعتراض کیا، سزا کے بعد اب بشریٰ بی بی کی ضمانت کا قانونی جواز بن چکا ہے، بشریٰ بی بی نے خاتون ہونے پر سزا معطلی مانگی، مقدمے میں زیادہ توجہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر مرکوز رہی۔
‘عدالت اس وقت میرٹ پر نہیں جا رہی’
چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ عدالت اس وقت میرٹ پر نہیں جا رہی، کیونکہ اس کے سامنے سزا معطلی کی درخواست ہے۔ جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ مرکزی اپیل سماعت کیلئے کتنی بار لگی ہے۔
بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد آئینی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا۔
واضح رہے احتساب عدالت نے 17 جنوری 2025 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنانے کے علاوہ دونوں پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا جبکہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا بھی حکم دیا تھا۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے مئی 2026 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں اس بنیاد پر نمٹا دی تھیں کہ ان کی مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ بعد ازاں بشریٰ بی بی نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔



