نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کی اینکر پرسن اور پروگرام میزبان ربیعہ احسن کو راولپنڈی میں ان کے گھر میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے ان کے شوہر کو حراست میں لے کر مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق ربیعہ احسن کی لاش اتوار کو راولپنڈی کے علاقے گلشن آباد، اڈیالہ روڈ پر واقع ان کے گھر سے ملی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
پولیس حکام کے مطابق رابیعہ احسن کے شوہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ فائرنگ میں استعمال ہونے والا مشتبہ اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر امدادی اہلکار گھر پہنچے تو ربیعہ احسن گولی لگنے کے باعث دم توڑ چکی تھیں۔ بعد ازاں پولیس اور فرانزک ٹیموں کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا۔
سی پی اور مشتاق سکھیرا کا کہنا ہے کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے موت کی وجوہات اور فائرنگ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے میں مدد ملے گی۔ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔
پولیس نے تاحال یہ تفصیلات جاری نہیں کیں کہ فائرنگ کے وقت گھر میں کون کون موجود تھا اور ملزم کے مبینہ کردار سے متعلق کیا شواہد سامنے آئے ہیں۔ قتل کی وجوہات بھی تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق ربیعہ احسن کے شوہر اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ رابیعہ کو مبینہ طور پر رات تقریباً 3 بجے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، ان کے بھائی نے ان کی موت سے متعلق پروگرام کے پروڈیوسر کو اطلاع دی۔
دریں اثناء پولیس ذرائع نے بتایا کہ مقتولہ کے شوہر احسن کا ابتدائی بیان سامنے آ گیا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ
حادثاتی طور پر گولی چلنے سے ربیعہ کا قتل ہوا۔
ذرائع کے مطابق ربیعہ نے احسن سے پسند کی شادی کی تھی، مقتولہ دو بیٹیوں کی ماں تھی، واقعے کے وقت مقتولہ کی والدہ اور بہنیں گھر میں موجود تھیں۔
ربیعہ احسن نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک سابقہ پوسٹ میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے پر تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے اس معاملے سے متعلق ماضی میں قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی رپورٹس اور کابینہ کمیٹیوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔
There is many a slip between the cup and the lip.
یہ پہلی بارنہیں کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پر جےآئی ٹی کی رپورٹ آئی ہو،کئی کابینہ کی کمیٹیاں بن چکی ہیں اس پرجسٹس اطہرمن اللہ صاحب کی طرف سےتفصیلاًفیصلہ دیاگیاجسے آؤٹ آف دی وےجاکےروک دیاگیا، کافی لوگ ہیں جنہیں جسٹس کہنا جسٹس کی توہین ہےثاقب نثاراپنےقدسےزیادہ دھاڑتےتھے ون کانسٹیٹیوشن ایونیوپرپروگرام کرنے کی وجہ سےمجھےاور رؤف کلاسراکوعدالت بلایاگیااورثاقب نثارنےہمیں تھرڈپارٹی انٹرسٹ سمجھایاتھرڈپارٹی سےمرادجنہوں نےیہاں انویسٹ کیا دوسرااس تھرڈپارٹی میں بےتحاشہ ایسےلوگ شامل ہیں جنہیں فلیٹس رشوت میں دیےگئےکیونکہ وہ حکومتوں میں بیٹھےہوئے تھےمیراخیال ہےاس بارےمیں حکومت کےمیجرگروپس میں لڑائی شروع ہوچکی ہے
@AmirMateen2 @Rabiya_Ahsan #Construction #Pakistan #SCO #SupremeCourt #saqibnisar #nawazsharif #PunjabGovernment #MaryamNawaz #PMLN #ShehbazSharif #MohsinNaqvi— M T (@MusakheyraTasv) November 5, 2026
انہوں نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق ٹی وی پروگراموں پر ہونے والی عدالتی کارروائیوں اور اس منصوبے کے حوالے سے مبینہ طور پر اپارٹمنٹس حاصل کرنے والے افراد کے بارے میں بھی تبصرے کیے تھے۔
اب تک ایسا کوئی باضابطہ ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ربیعہ احسن کی سوشل میڈیا پوسٹس یا ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق ان کے تبصروں کو قتل کے واقعے سے جوڑا جا سکے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات، پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس سامنے آنے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات متوقع ہیں۔



