گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ کھڑے ہیں، اس جنگ میں شکست یا واپسی کا کوئی آپشن نہیں۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں کے دوران دہشت گردی اورسیکیورٹی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، 3 نومبر کو روز قبل ضلع مہمند میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار فائرنگ سے شہید اور ایک زخمی جبکہ ٹانک میں چار پولیو ورکرزکواغوا کرلیا گیا تھا، سیکیورٹی صورتحال اوردہشت گردی کے خلاف اقدامات پرگورنراور حکام نے نیوزکانفرنس کی۔
پشاور میں صوبائی حکام کے ہمراہ نیوزکانفرنس اورسیکیورٹی بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاورمیں وزیراعظم اوراعلیٰ حکام کی موجودگی میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اپیکس کمیٹی اجلاس ہوا، خیبرپختونخوا حکومت نے سیکیورٹی کیلئے 160 ارب روپے مانگے تھے، وفاق نے اس کی تائید کی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اور ترقیاتی امور پر وفاقی حکومت سے رابطے اور فالو اپ اجلاس اسلام آباد میں ہوئے، اب سیکیورٹی کی مکمل سیاسی ذمہ داری لی جائے گی، پولیس کو محدود اسلحے کے سہارے نہیں چھوڑ سکتے، اسے جدید اسلحہ اور ایمونیشن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں بہتری اور شہدا پیکجز کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں تاحال پولیس لائنز نہ بننے پر تشویش ہے، امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں، دہشت گردوں کو انہی کی زبان میں جواب دیا جائے گا اور زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف بھارتی سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے، پشاور پر قبضے کے بیانات اور ڈرون کی آمد پر افغان حکام کی خاموشی افسوسناک تھی۔ خیبرپختونخوا کی پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد، قندھار یا کابل سے نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست، آئین اور قانون کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ترقیاتی کام، سڑکیں اور پل اسی وقت مفید ہیں جب عوام کی زندگیاں محفوظ ہوں۔
عوام کا اعتماد بحال کرکے اور پولیس سے رابطہ مضبوط بنا کر آدھی جنگ جیتی جاسکتی ہے، جبکہ صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔
اس موقع پربریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ خیبرپختونخوا امجد علی خان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں، صوبے میں ایک ہزار سے زائد فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں، سیکیورٹی فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے ملک دشمن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ مزید بہتر بنائی جا رہی ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جاسکے، پولیس کو مضبوط اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا، جبکہ عوامی سطح پر براہ راست مسائل سن کر ان کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔


