مصر کے شہر گیزہ کے قریب 2 مسافر ٹرینوں میں تصادم کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 88 زخمی ہو گئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق مصری وزارتِ صحت نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کیلیے 72 ایمبولینسز جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔
رواں سال جون میں مصر کے سوئز گورنریٹ کے علاقے شالوفہ میں ٹرین اور کار کے درمیان تصادم ہوا تھا جہاں ایک کار غیر مجاز راستے سے ریلوے ٹریک عبور کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ٹرین سے ٹکرا گئی تھی۔ اس حادثے میں گاڑی میں سوار 5 خواتین، 2 بچے اور ڈرائیور ہلاک ہوئے تھے۔
مصر کی ریلوے اتھارٹی کے مطابق گیزہ سے فیوم جانے والی ٹرین قاہرہ سے اسوان جانے والی دوسری ٹرین کے پچھلے حصے سے ٹکرا گئی۔ حادثہ العیاط کے علاقے میں کفر عمار اور الرقہ اسٹیشنوں کے درمیان پیش آیا، جس کے نتیجے میں کئی بوگیاں پٹری سے اتر کر ریلوے ٹریک کے ساتھ واقع ڈھلوان سے نیچے جا گریں۔
بی بی سی عربی کے مطابق گیزہ اور بالائی مصر کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک ٹرین ڈرائیور بھی شامل ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے، حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کرنے اور غفلت کے مرتکب افراد کا تعین کرکے انہیں جوابدہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔
El presidente Abdul Fatá el Sisi ordenó una investigación inmediata del choque. https://t.co/taXJNfvimA
— TelemundoPR (@TelemundoPR) November 8, 2026
مصری حکومت کے مطابق حادثے کے بعد علاقے کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کی بڑی تعداد کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ العیاط کا علاقہ مصر کے بدترین ریلوے حادثے کا مقام بھی ہے، جہاں 2002 میں ایک ٹرین میں آگ لگنے کے باعث 370 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔


