ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی دو روزہ تجویز اب بھی برقرار ہے، امریکا تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے سمیت ہمارے مطالبات تسلیم کرے یا پھر جنگ کیلیے تیار ہو جائے۔
عراقچی کی دو روزہ تجویز بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلیے مذاکرات بحال کرنے سے متعلق ہے۔ یہ تجویز قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی مشاورت کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو روز کے اندر بحال کرنے کیلیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا تہران کے مطالبات تسلیم کرے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے امریکا کو دی گئی دو روزہ تجویز کو تہران کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بیان میں ایک طرف سفارتی حل کا راستہ کھلا رکھنے کی پیشکش ہے تو دوسری جانب سخت ردعمل کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔
ایکس پر جاری پیغام میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی ووٹرز اپنا فیصلہ سنا چکے، اب وائٹ ہاؤس کو بھی فیصلہ کرنا ہو گا، امریکا ہمارے مطالبات مانیں اور نتائج دیکھیں، امریکا نے جنگ کا راستہ چنا تو ہماری فوج مقابلے کے لیے مکمل تیار ہے۔
American voters have made their choice. Time for the White House to make its own.
Our 2-day proposal stands: meet the requirements, including end to war on all fronts, and you will see results.
Or choose war, and see our alert and battle-hardened Warriors rain down hell.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) November 8, 2026
دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ ایران کے مضبوط عزم کے مقابلے میں کھڑی ہونے والی ہر طاقت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی جارحیت، دہشتگردی اور دباؤ کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایک انٹرویو میں امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیاسی اتحادیوں کو مسلسل سیاسی اور انتخابی ناکامیوں کا سامنا ہے، جو محض ملکی سیاست میں اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایران کے قومی عزم کو شکست دینے میں امریکا کی ناکامی کا مظہر ہے۔
ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے انتہا پسند ساتھی ایران کو تباہ کرنے کے ارادے سے اس محاذ آرائی میں داخل ہوئے تھے، تاہم صورتحال اس کے برعکس ہو گئی اور اب امریکا کو طویل المدتی دباؤ، اندرونی بحرانوں اور ایرانی مسلح افواج و مزاحمتی محاذ کی جانب سے ناکامیوں کا سامنا ہے۔



