امریکی حکام نے سعودی شہری اور اوپن اے آئی کے 35 سالہ انجینئر عبدالرحمان الفوزان کو سان فرانسسکو میں کمپنی کے اعلیٰ سطحی کانفرنس روم کے اندر خفیہ طور پر آڈیو ریکارڈنگ کا آلہ نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے فرد جرم عائد کر دی۔
یہ آلہ اوپن اے آئی کی جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی سے متعلق خفیہ اجلاسوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ سعودی شہری کی گرفتاری 9 اکتوبر کو عمل میں لائی گئی تھی۔
JUST IN:
US federal agents have arrested Abdulrahman Alfozan, a 35-year-old Saudi national and OpenAI engineer, for installing a hidden audio recording device inside an executive conference room in San Francisco.
The device was intended to record confidential discussions about OpenAI’s advanced AI technology.
Alfozan also appears to have had close ties to the Saudi royal family.
— Current Report (@Currentreport1) October 14, 2026
امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن نے کہا کہ یہ سنگین واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ سپر انٹیلی جنس کی عالمی دوڑ میں کامیابی قومی سلامتی کی ترجیح کیوں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سپر انٹیلی جنس فورس کے قیام کی قیادت کیوں اہم ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ عبدالرحمان الفوزان نے مبینہ طور پر اپنے آجر کے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس چھپائی تاکہ کمپنی کی سپر انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے متعلق حساس گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سپر انٹیلی جنس ٹیکنالوجی میں جدت کا تحفظ ملک کی معاشی طاقت اور قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ادارہ امریکی حکومت اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امریکی کاروباری اداروں اور شہریوں کے تحفظ اور عالمی مسابقت میں امریکہ کی برتری برقرار رکھنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔
شمالی کیلیفورنیا کے لیے امریکی اٹارنی کریگ ایچ میساکیان نے کہا کہ بے ایریا اور سلیکن ویلی مستقبل کی ٹیکنالوجی کی تیاری میں دنیا کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کا دفتر امریکی جدت کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور گرفتاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکام ایف بی آئی کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی چرانے کی کوشش کرنے والوں کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ڈیوائس کہاں لگائی گئی؟
عدالتی شکایت کے مطابق عبدالرحمان الفوزان جولائی 2025 سے اوپن اے آئی میں انجینئر کے طور پر ملازمت کر رہے تھے۔ 30 ستمبر کو اوپن اے آئی کے عملے نے سان فرانسسکو میں کمپنی کی ایک عمارت کے ایگزیکٹو کانفرنس روم میں خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس دریافت کی۔ یہ آلہ کمرے میں نصب ٹیلی ویژن کے پچھلے حصے میں موجود یو ایس بی پورٹ میں لگایا گیا تھا۔
We discovered a sophisticated recording device that was hidden inside one of our offices. We used our models to understand the device and where it had come from, identifying that a specific employee had planted it a few days earlier. We referred the matter to the FBI, and we’re grateful to the agents and prosecutors who moved quickly to make an arrest. The FBI’s investigation is ongoing and we will continue to support their work.
At this time, we have no indications of this individual inappropriately accessing or exfiltrating model weights, source code, or customer data. The employee was terminated.
We take protecting our technology, data, and people seriously, and as a matter of national importance. Our security program is designed to protect against a wide range of threat actors, from insider risks to cybercriminals to nation states, and this case is an example of how AI can help address these sophisticated security threats.
— OpenAI Newsroom (@OpenAINewsroom) October 13, 2026
کمپنی کی تحقیقات کے مطابق یہ ڈیوائس 28 ستمبر کو نصب کی گئی تھی اور اسے ٹوائلٹ پیپر میں چھپایا گیا تھا۔ آلے میں موجود مواد کو انکرپٹ کیا گیا تھا، یعنی اسے ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ بنایا گیا تھا تاکہ عام رسائی کے ذریعے اسے پڑھنا یا حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔
الفوزان کو کمرے تک رسائی حاصل نہیں تھی
اوپن اے آئی کے دفتر میں نصب کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کیمروں کی فوٹیج میں الفوزان کو ڈیوائس کی دریافت سے قبل مختلف تاریخوں پر ایگزیکٹو کانفرنس روم کے قریب دیکھا گیا۔ عدالتی شکایت کے مطابق انہیں اس کمرے تک رسائی یا وہاں ہونے والی میٹنگز میں شرکت کی اجازت حاصل نہیں تھی۔
شکایت میں بتایا گیا ہے کہ اس کانفرنس روم میں ہونے والے اجلاسوں میں اکثر انتہائی خفیہ تکنیکی، تجارتی اور تزویراتی معاملات پر گفتگو کی جاتی تھی۔ ان میں کمپنی کی ملکیتی تحقیق، مصنوعات کے منصوبے، کاروبار میں توسیع کے مواقع، ٹیکنالوجی میں پیش رفت، حکمتِ عملی سے متعلق فیصلے، صلاحیتیں، ترجیحات، حکومتی اداروں کے ساتھ روابط اور تجارتی تعلقات سے متعلق غیر اعلانیہ معلومات شامل تھیں۔
عدالتی شکایت کے مطابق 28 ستمبر سے پہلے الفوزان نے کمپنی کے ایک پیداواری ٹول کے ذریعے متعدد سوالات کیے۔ ان سوالات میں اوپن اے آئی کی عمارتوں کے پتے، میٹنگ رومز، ان کی گنجائش، کمروں کے کیلنڈرز، کمپنی کی قیادت اور اعلیٰ عہدیداروں کے مقامات اور بیرونی شراکت داروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق معلومات شامل تھیں۔
مزید الزام ہے کہ الفوزان کی اہلیہ سے منسلک ایک چیٹ بوٹ اکاؤنٹ نے 24 سے 30 ستمبر کے درمیان ایک ڈیوائس تیار کرنے، اس میں تبدیلیاں کرنے، نصب کرنے، آڈیو ریکارڈ کرنے، اس کی جانچ کرنے، اسے چھپانے اور دور سے اس تک رسائی حاصل کرنے سے متعلق متعدد سوالات کیے۔
شکایت کے مطابق، ان سوالات میں مسلسل آڈیو ریکارڈنگ کرنے والا آلہ تیار کرنے، وائی فائی کنکشن کو اپنی ضرورت کے مطابق بنانے، آواز اور براہِ راست سننے کی صلاحیت بہتر بنانے اور ایس ڈی کارڈ کو انکرپٹ کرنے سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ چیٹ بوٹ اکاؤنٹ میں الفوزان کے اپنے اکاؤنٹ سے متعدد شناختی خصوصیات مشترک تھیں۔ اسی اکاؤنٹ سے 27 اور 28 ستمبر کو پہلی ریکارڈنگ ڈیوائس سے متعلق مخصوص سوالات بھی کیے گئے، جن میں اس کے کسٹم ہیڈر اور منفرد میڈیا ایکسیس کنٹرول (میک) ایڈریس کا ذکر شامل تھا۔ میک ایڈریس کسی نیٹ ورک ڈیوائس کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والا منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ 5 اکتوبر کو الفوزان ایگزیکٹو کانفرنس روم میں داخل ہوئے اور بظاہر اس ٹیلی ویژن کے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی جس میں پہلی ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کی گئی تھی۔
اوپن اے آئی کی دوسری عمارت کے کمرے سے لاوارث بیگ برآمد
اسی روز اوپن اے آئی کی ایک دوسری عمارت کے کمرے میں الفوزان کا ایک بیگ لاوارث حالت میں ملا۔ کمپنی کے سکیورٹی عملے نے بیگ کھولا تو اس میں دیگر اشیاء کے علاوہ الفوزان کا بٹوا، شناختی دستاویزات اور پہلی ڈیوائس سے ملتی جلتی ایک دوسری ریکارڈنگ ڈیوائس بھی موجود تھی۔
حکام کے مطابق، دونوں ڈیوائسز کی دریافت اور دفتر کی نگرانی کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج اس معاملے کی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اگر عبدالرحمان الفوزان پر عائد الزامات عدالت میں ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں 5 سال قید، ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے اور اس کے بعد 3 سال تک عدالتی نگرانی میں رہنے کی سزا ہو سکتی ہے۔
فراہم کردہ معلومات میں عبدالرحمان الفوزان کے سعودی شاہی خاندان سے قریبی روابط کا ذکر بھی کیا گیا ہے، تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی سرکاری پریس ریلیز میں ایسے روابط کی تصدیق نہیں کی گئی۔


