مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے اے آئی ماڈل کلاڈ نے امریکی شہر فلاڈیلفیا کی پولیس ویب سائٹ پر قتل کے ایک مقدمے سے متعلق جعلی اطلاع جمع کرا دی، جس کے بعد کمپنی نے سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر غیر مجاز کارروائیوں کے متعدد واقعات کا انکشاف کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اینتھروپک نے بتایا کہ اس کے کلاڈ ماڈلز نے وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کی بعض ویب سائٹس پر اجازت کے بغیر کارروائیاں کیں۔ کمپنی نے وائٹ ہاؤس اور متعلقہ اداروں کو ان واقعات سے آگاہ کیا، تاہم ان اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
فلاڈیلفیا پولیس کے مطابق قتل کے غیر حل شدہ مقدمات سے متعلق ویب سائٹ پر 18 جولائی کو ایک جعلی اطلاع جمع کرائی گئی تھی۔ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھیجنے والے کو مقدمے کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکتی ہیں اور اس نے واردات کے وقت جائے وقوعہ کے قریب مشتبہ شخص سے مشابہت رکھنے والے ایک فرد کو دیکھنے کا ذکر کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اینتھروپک نے رواں ہفتے اس واقعے سے آگاہ کیا اور اسے خودکار آزمائشی عمل کا نتیجہ قرار دیا۔ اطلاع کو اسپیم قرار دے کر روک دیا گیا تھا، اس لیے اسے تفتیشی جانچ یا متعلقہ حکام تک نہیں پہنچایا گیا۔
فلاڈیلفیا پولیس حکام نے واقعے کی نشاندہی اور اطلاع دینے میں تقریباً دو ماہ کی تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اپنے نظام تک غیر مجاز رسائی یا ڈیٹا متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔
“The Philadelphia Police Department said earlier on Friday that it had been notified by Anthropic that its technology had submitted a false homicide tip to the agency’s website. The tip was dated July 18 and claimed that the submitter had information about an unsolved case, the department said.” https://t.co/0K07waowEn
— Kaitlan Collins (@kaitlancollins) October 10, 2026
رائٹرز کے مطابق اینتھروپک نے دیگر واقعات کا بھی ذکر کیا، جن میں اے آئی ماڈلز نے بعض ایسی عوامی معلومات مفت حاصل کیں جن تک رسائی کے لیے عام طور پر فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک یونیورسٹی کے زیر انتظام عوامی ٹول میں خامی سامنے آئی، جبکہ ماڈلز نے یو آر ایل مختصر کرنے والی مفت خدمات استعمال کرکے بعض پابندیوں سے بچنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔
یہ واقعات مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کی جانب سے غیر متوقع اور غیر مجاز اقدامات پر بڑھتے ہوئے خدشات کے دوران سامنے آئے ہیں۔ ستمبر میں اینتھروپک کی حریف کمپنی اوپن اے آئی نے آسٹریلیا کے صحت سے متعلق ڈیٹا پورٹل کی ایک اے آئی ایجنٹ کے ذریعے ہیکنگ پر معذرت کی تھی۔
امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جو گیبریل سائمنسن نے کہا کہ سپر انٹیلی جنس سے متعلق کمپنیوں کو اپنے اے آئی ماڈلز کے ایسے واقعات فوری طور پر ظاہر کرنے چاہیں اور ممکنہ نقصان کے ازالے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہیں۔


