وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 5 سال کے دوران دہشت گردی میں اضافہ ہوا اور صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت بار بار اس بات پرزور دیتی رہی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مؤثر پالیسی بنائی جائے کیونکہ صوبے میں ہر طبقہ دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی ملک میں ایک جگہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی ہواوردوسری جگہ اس پرعمل نہ کیا جائے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے یکساں اور مؤثرحکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ شروع کیا تھا، جس کے بعد وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دو ادوار کیے ان مذاکرات میں حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسی تشکیل دینے اور اس سلسلے میں تعاون پر زور دیا، تاہم فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو سکا، بعد ازاں 11 اکتوبر کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی گئی سمری پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوہاٹ میں زخمی ہونے والے افراد نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آخری قطرے تک لڑیں گے۔
ان کے مطابق یہ عزم دہشت گردی کے خلاف عوام اور سکیورٹی اہلکاروں کی ثابت قدمی کی عکاسی کرتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اورمؤثر حکمت عملی ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کی نئی کونسل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پی ٹی آئی حکومت سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ کونسل کا ہررکن بہترین صلاحیتوں کا حامل ہے اور صوبے کے مسائل حل کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا تقاضا ہے کہ تمام متعلقہ فریق مؤثر اقدامات کریں۔
ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کامیابی کیلئے مربوط پالیسی، سنجیدہ کوششیں اور یکساں حکمت عملی ضروری ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔



