وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع لانے کا سلسلہ جاری رکھے گا، حکومت چینی یوآن میں مزید بانڈز جاری کرنے اور جاپانی مارکیٹ سے سامورائی بانڈز کے اجرا کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
پاکستان نے رواں سال مئی کے وسط میں 1.75 ارب چینی یوآن، یعنی 26 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کے پہلے پانڈا بانڈز جاری کیے تھے۔ یہ اجرا 7.2 ارب یوآن کے مجموعی پروگرام کا حصہ تھا، جس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے جزوی ضمانتیں فراہم کیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر جاپانی جریدے نکی ایشیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حال ہی میں جاری کیے گئے پانڈا بانڈز محض ایک مرتبہ کا اقدام نہیں ہوں گے۔ پاکستان مستقبل میں بھی اس مارکیٹ سے بار بار سرمایہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، کیونکہ چین کے پاس دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے۔
حکومت کی مالی وسائل کے ذرائع مزید متنوع بنانے میں دلچسپی
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کی مجموعی مالیت میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا، تاہم حکومت مالی وسائل کے ذرائع مزید متنوع بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے، جس میں جاپانی ین میں سامورائی بانڈز کا اجرا بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سامورائی بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے موزوں ثابت ہو سکتا ہے اور اس امکان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، تاہم اس سلسلے میں مزید تیاری کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ قومی ٹیرف پالیسی برآمدات بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے، قومی ٹیرف پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پالیسی صرف آٹو موبائل صنعت تک محدود نہیں بلکہ عمومی طور پر تمام صنعتی شعبوں سے متعلق ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے صنعتوں کو طویل المدتی تحفظ فراہم کیا، حکومت پاکستانی صنعتوں کو مسابقت کے قابل بنانا چاہتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں درآمدی محصولات کم کیے تھے، جس سے مختلف شعبوں میں مثبت نتائج سامنے آئے۔ پاکستان کے لیے بھی جنوب مشرقی ایشیا جیسا معاشی ترقی کا موقع پیدا ہو سکتا ہے۔
‘پاکستان موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہے’
انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہے، جس سے عالمی ریٹنگ ایجنسیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات میں بھی مدد ملے گی۔ موجودہ پروگرام میں ساختی اصلاحات کا ایجنڈا شامل ہے، جس پر عمل درآمد پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد دے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کی مالی معاونت سے نکلنے میں کامیاب ہو گا جب عالمی برادری کو یقین ہو جائے گا کہ ملک کو ہنگامی حالات میں آخری سہارے کے طور پر قرض دینے والے ادارے کی ضرورت نہیں رہی۔


