بھارتی حکومت نے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر احتجاج روکنے کیلئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت ڈِپکے، پارٹی رہنما سوروو داس اورآشوتوش کے علاوہ معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی سمیت سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔
#WATCH | Delhi Police personnel enter the aircraft that was carrying Cockroach Janta Party (CJP) Founder Abhijeet Dipke to Delhi. The flight landed at IGI Airport a few minutes ago.
“…I have come here to be arrested; arrest me,” Abhijeet Dipke tells Delhi Police
“No, this is not an arrest. Please cooperate,” Delhi Police personnel tell him.
— ANI (@ANI) October 10, 2026
کاکروچ جنتا پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کررہی ہے جس میں مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
یہ مظاہرے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب چند ماہ قبل امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کے بعد بھارتی وزیر تعلیم کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔
View this post on Instagram
رائٹرز کے مطابق ابھیجیت ڈِپکے ممبئی سے نئی دہلی پہنچے تھے جہاں پولیس اہلکاروں نے انہیں احتجاج منسوخ کرنے کا کہا، انکار پر انہیں حراست میں لے لیا گیا،کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق پاررٹی رہنما سوروو داس اور آشوتوش کو بھی دہلی پہنچنے پر طیارے سے حراست میں لیا گیا ہے۔
گرفتاری سے قبل بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ابھجیت ڈِپکے نے کہا تھا کہ وزیر اعظم ملک کے نوجوانوں اور عوام سے اتنے خوف زدہ کیوں ہیں؟ریلوے، میٹرو، انٹرنیٹ اور سڑکیں بند کرنے کے اقدامات خوف کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کے علاوہ معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے جہاں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، میٹرو اسٹیشنز اور مارکیٹس بند کردی گئیں اور موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
VIDEO | Delhi: Security tightened ahead of CJP protest at Jantar Mantar, police detain protesters.
Visuals from Connaught Place.
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/d8jp61yd2p) https://t.co/aVkSSQalUD
— Press Trust of India (@PTI_News) October 10, 2026
ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ نام خارج ہونے کا تنازع کیا ہے؟
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا معاملہ مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے نائبین نے ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر ان سے سوالات کیے اور اختلاف بھی کیا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑ ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا جو جاپان کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن میں اپنے مقرر کردہ عہدیداروں کے ساتھ مل کر ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ اپوزیشن کے مطابق ووٹرز کے نام خارج ہونے سے بی جے پی کی جیتی ہوئی بعض حالیہ ریاستی انتخابات کے نتائج بھی متاثر ہوئے۔
الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے الزامات مسترد کردیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق تصدیقی عمل کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹر اندراجات کی نشاندہی کی گئی، جن میں 6 کروڑ 30 لاکھ افراد کے دوسری جگہ منتقل ہونے، 3 کروڑ افراد کا سراغ نہ ملنے اور 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کے انتقال کر جانے کے اندراجات شامل ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی نظرثانی کے مرحلے میں نشان زد کیے گئے اندراجات سے متعلق ہیں اور عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ جن ووٹرز کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی کا مؤقف ہے کہ نریندر مودی کی مقبولیت اور بھارت کی معاشی ترقی اس کی انتخابی کامیابیوں کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جماعت اپوزیشن پر الزام لگاتی ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکنے کے باعث گمراہ کن الزامات عائد کرتی ہے۔



