ملک میں ٹرینوں کے حادثات نہ رک سکے، آج بھی مزید 2 مسافر ٹرینیں حادثات کا شکار ہوگئیں ۔
یاد رہے گزشتہ روز راولپنڈی سے کراچی جانے والی پاکستان ایکسپریس بھی کھاریاں کے قریب ڈیل ریل ہوئی تھی۔
رائیونڈ میں کراچی سےلاہورجانیوالی شالیمار ایکسپریس پٹڑی سےاترگئی، ریلوے حکام کے مطابق حادثہ بریک فیل ہونے کےباعث پیش آیا۔
مسافروں کوریلیف ٹرین کےذریعے منزل کی طرف روانہ کردیا گیا ہے، حادثےمیں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس بھی حادثے کا شکار ہوئی جس کی ایک بوگی گوجرخان کے قریب پٹڑی سے اتر گئی۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ گھنگھریلہ اور گوجرخان کے درمیان بوگی پٹڑی سے اتری، جعفر ایکسپریس صبح 6 بجے پشاور سے روانہ ہوئی تھی۔
بوگی پٹڑی سے اترنے کے باعث ٹریک پر ٹرینوں کی آمدوروفت معطل ہوگئی، ریلوے حکام ٹریک کی بحالی کےلئے موقع پر موجود ہیں۔
ملکی تاریخ میں خوفناک ٹرین حادثات
پاکستان میں 73 سال کے دوران ٹرین حادثات میں ہزاروں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔
ملکی تاریخ کا پہلا بڑا ٹرین حادثہ 1953ء میں جھمپیر کے قریب واقعہ ہوا جس میں 200 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔
ٹرین حادثات کی روک تھام کیلئے نیا حکم نامہ جاری
ٹرین حادثات کی روک تھام کیلئے اگست 2025 میں ڈی ایس ریلویز کو نیا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔
نئے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ بریکنگ سسٹم میں خرابی والی کوچز مال گاڑی یا مسافر ٹرینوں کیساتھ لگانے پر پابندی عائد ہوگی۔
ایسی کوچز ٹرین کے ساتھ نہیں لگائی جائیں گی جن کو روکنے میں دشواری کا سامنا ہو،متعلقہ ڈیپارٹمنٹ گاڑی روانہ کرنے سے پہلے بریکنگ سسٹم لازمی چیک کرے گا۔ صرف مکینیکل ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کلیئر ہونے والی کوچز ہی استعمال کی جائیں گی۔
