وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔
جس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سمیت ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر اراکین کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 2 میں شام 4 بجے ہوگا، جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔ اجلاس میں حکومتی جماعت اور اتحادیوں کے پارلیمانی اراکین شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اراکین کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق حکومتی فیصلوں کے پس منظر اور وجوہات سے آگاہ کریں گے۔
اس موقع پر صوبے کی سکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور وفاقی حکومت کے آئندہ لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا پس منظر
خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان سکیورٹی پالیسی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سیاسی معاملات پر اختلافات شدت اختیار کرنے کے بعد وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اسے صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
وزیر داخلہ اور وزیر قانون کی بریفنگ
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اجلاس کے شرکا کو ملک بالخصوص خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔ اس دوران دہشت گردی کے واقعات، امن و امان کے انتظامات اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون سے متعلق امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے آئینی و قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دیں گے اور اراکین کو متعلقہ حکومتی فیصلوں کے قانونی پس منظر سے آگاہ کریں گے۔
دوسری جانب وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری پارلیمنٹ کے اجلاس کے ایجنڈے اور قانون سازی سے متعلق امور پر بریفنگ دیں گے۔
اجلاس میں حکومتی اور اتحادی اراکین کو موجودہ سیاسی صورتحال پر اعتماد میں لینے کے ساتھ پارلیمانی حکمت عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت بھی متوقع ہے۔



