سابق صدر مملکت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے جمہوریت کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں منتخب حکومت کو ہٹانے کا اختیار صرف خیبرپختونخوا کے عوام کو حاصل تھا، وفاقی حکومت کو نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ڈاکٹر عارف علوی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت کا عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کو دھاندلی زدہ نظام نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
سابق صدر عارف علوی نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام کے پاس ہونا چاہیے تھا۔
‘عمران خان سے ملاقات مذاکرات میں بنیادی اختلاف تھا، عارف علوی’
ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں بنیادی اختلاف عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام کے ایسے رہنما ہیں جنہیں ان کے بقول ناحق قید میں رکھا گیا ہے۔
سابق صدر نے الزام لگایا کہ عمران خان کی تصویر یا ان سے متعلق معلومات بھی سامنے آنے سے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ذاتی دشمنی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
عارف علوی نے ملک میں بڑھتی غربت، اشرافیہ کے بڑھتے اثر و رسوخ اور سیاسی مفادات کے لیے طاقت کے استعمال پر بھی تنقید کی۔
سابق صدر کے بچوں کو حراست میں لینے اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر تشدد کے الزامات
سابق صدر نے الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ والدین کو دباؤ میں لانے کے لیے بچوں کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ املاک کو نقصان پہنچانا پولیس کا معمول بنتا جا رہا ہے۔
عارف علوی نے مزید الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے ادارے دباؤ کا شکار ہیں۔
سابق صدر نے ان الزامات کے حق میں اپنے بیان میں کوئی مخصوص مقدمہ یا واقعہ بیان نہیں کیا۔
بلوچستان اور آزاد کشمیر کے احتجاج کا حوالہ
ڈاکٹر عارف علوی نے بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ لاپتا افراد کے معاملے پر آئینی اور پُرامن احتجاج کرنے والوں کو سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں لاپتا افراد کے لیے احتجاج کرنے والی خواتین رہنماؤں کو عمر قید کی سزائیں دی گئیں جبکہ آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والے پُرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا ۔
عارف علوی نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبرپختونخوا کے عوام کو بھی اسی نوعیت کا پیغام دیا جا رہا ہے؟ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ان کے سیاسی اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
‘عمران خان تشدد کے مخالف ہیں، پُرامن جدوجہد جاری رہے گی، عارف علوی’
سابق صدر نے اپنے بیان میں یقین ظاہر کیا کہ حکومت اور اس کے اتحادی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تشدد کے مخالف ہیں اور پی ٹی آئی سمیت پاکستان کے عوام ہر قسم کے حالات میں اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
عارف علوی نے کہا کہ پاکستان ان کا اپنا وطن ہے اور اس کا تحفظ کیا جائے گا یہ تحفظ ملک کے غریب، بھوکے اور محروم طبقات کو جمہوری عمل میں ساتھ ملا کر ممکن بنایا جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں پر سخت طنز کرتے ہوئے انہیں ملک کو نقصان پہنچانے کی کوششوں پر نوبل امن انعام کے بجائے ملک کی تباہی کی تیز ترین کوشش کے لیے انعام دینے کی بات بھی کی۔
عمران خان کی قیادت میں دوبارہ تعمیر کا عزم
اپنے بیان کے اختتام پر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مخالفین کی جانب سے مشکلات پیدا کیے جانے کے باوجود عمران خان ملک کو دوبارہ تعمیر کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
عارف علوی کا یہ بیان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
وفاقی حکومت نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور انتظامی مشکلات کو اپنے اقدام کی وجہ قرار دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی اسے صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دے رہی ہے۔
ایسے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے آئینی جواز، صوبائی حکومت کے اختیارات اور وفاق و صوبے کے تعلقات سے متعلق تنازع بدستور برقرار ہے۔



