اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی مبینہ گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب صوبائی اسمبلی برقرار ہے تو اسپیکر کو کس قانونی جواز کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی اور مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سہیل آفریدی کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (تھری ایم پی او) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے سوال کیا کہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کو بھی حراست میں کیوں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ”وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، لیکن خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو گرفتار کرنا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ صوبائی اسمبلی اب بھی برقرار ہے، اسے تحلیل نہیں کیا گیا۔ پھر اسپیکر کو کیوں گرفتار کیا گیا؟“
وزیراعلی سہیل آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے لیکن سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو گرفتار کرنا ایک انہونی بات ہے اسمبلی قائم ہے ٹوٹی نہیں اس کو کس لیے گرفتار کیا گیا ہے؟
ہم مزاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار تھے ہم چاہتے تھے کوئی اچھا فیصلہ ہو جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر جو ایک واحد صوبے میں جہموریت قائم تھی وہ قائم رہے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔
سلمان اکرم راجہ
— PTI (@PTIofficial) October 11, 2026
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کے لیے تیار تھی اور چاہتی تھی کہ ایسا مثبت نتیجہ نکلے جس سے پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا میں جمہوری نظام برقرار رہ سکے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ”ہم مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مثبت فیصلہ ہو جس سے پاکستان کے صرف ایک صوبے میں موجود جمہوریت کا تسلسل برقرار رہ سکے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔“
ان کا یہ بیان پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد سہیل آفریدی اور جنید اکبر سمیت جماعت کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”وزیرا علیٰ سُہیل آفریدی، جنید اکبر سمیت دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔“
مبینہ گرفتاریوں اور پی ٹی آئی کے ردعمل کے دوران سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے اقدامات اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کے بعد پیدا ہوئی۔
لانگ مارچ اور احتجاج ہوگا اب میں لیڈ کرونگا نکلو اب نہیں تو کب ہم نے تو کون
— Shahid Khattak (@ShahidkhattakSk) October 11, 2026
شاہد خٹک نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانیوں اب آپ کی باری ہے ،میں پشاور میں موجود ہوں، نکلو پشاور کی عوام اپنے محبوب لیڈر عمران خان کے لیے ،اُس کے سپاہی کے لیے ،سب گھروں سے نکلو، خیبر کی عوام پشاور کا رخ کرے آپ کی تعداد جہاں بڑ ھ جائے گی میں وہاں موجود ہوں گا ۔جنوبی اضلاع بشمول کرک کی عوام نیشنل ہائی وے بند کردے۔
دوسری جانب سہیل آفریدی کو حراست میں لیے جانے سے متعلق سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس میں ایک صحافی کی جانب سے سہیل آفریدی کو حراست میں لیے جانے سے متعلق سوال بھی کیا گیا تھا تاہم محسن نقوی نے اس پر صرف اتنا کہا کہ ”فوجداری مقدمات میں مطلوب کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جبکہ احتیاطی حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو حالات سازگار ہونے پر رہا کر دیا جائے گا۔“
علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ “وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی اور صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں فاشزم کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔ جمہوری اقدار، آئین و قانون اور عوامی مینڈیٹ کو مسلسل پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ سیاسی اختلاف کا جواب دلیل اور جمہوری عمل کے بجائے گرفتاریوں اور ریاستی جبر سے دیا جا رہا ہے۔”
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمدسہیل آفریدی اور صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں فاشزم کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔ جمہوری اقدار، آئین و قانون اور عوامی مینڈیٹ کو مسلسل پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ سیاسی اختلاف کا جواب دلیل اور جمہوری عمل کے بجائے گرفتاریوں اور ریاستی جبر سے دیا جا رہا ہے۔
آخر کتنی نفرتیں بوئیں گے؟ کتنی آوازیں دبائیں گے؟ کتنے لوگوں کو گرفتار کرکے عوام کے حوصلے توڑنے کی کوشش کریں گے؟
یہ یاد رکھیں! گرفتاریوں، دھمکیوں اور جبر کے ہتھکنڈوں نے نہ پہلے ہمیں جھکایا تھا، نہ آج جھکا سکیں گے۔ سیاسی جدوجہد کسی رہنما کی گرفتاری سے ختم نہیں ہوتی،
— Junaid Akbar (@JunaidAkbarMNA) October 11, 2026
بیان میں کہا گیا کہ ”آخر کتنی نفرتیں بوئیں گے؟ کتنی آوازیں دبائیں گے؟ کتنے لوگوں کو گرفتار کرکے عوام کے حوصلے توڑنے کی کوشش کریں گے؟“
بیان میں مزید کہا گیا کہ ”یہ یاد رکھیں! گرفتاریوں، دھمکیوں اور جبر کے ہتھکنڈوں نے نہ پہلے ہمیں جھکایا تھا، نہ آج جھکا سکیں گے۔ سیاسی جدوجہد کسی رہنما کی گرفتاری سے ختم نہیں ہوتی۔“
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں آج (اتوار کو) وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری لی گئی، اجلاس کے شرکا کو صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ جس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کردیے۔
بعد ازاں گورنر خیبر پختونخوا نے ایمرجنسی کے بعد صوبے کے عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام صدارتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں،عوام کسی بھی قسم کی قانون شکنی، اشتعال انگیزی اور دنگے فساد سے مکمل اجتناب کریں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔
علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کو عہدے سے ہٹا کران کی جگہ ڈاکٹر محمد فخرعالم عرفان کو تعینات کردیا ہے۔
