سورج سے خارج ہونے والے مادے کے دو بڑے بادل زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں، جن کے 11 اکتوبر کو زمین کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کے مقناطیسی میدان میں خلل پیدا ہونے اور سیٹلائٹ نیویگیشن، ریڈیو مواصلات اور بجلی کے نظام متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی ادارے نیشنل اوشیئنک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) نے ممکنہ شمسی سرگرمی کے پیش نظر درمیانے درجے کے جی ٹو جیو میگنیٹک طوفان کی وارننگ جاری کی ہے۔ تاہم طوفان کی شدت اور اس کے حقیقی اثرات کا انحصار زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ شمسی مادے کے تعامل پر ہوگا۔
11 اکتوبر کا کیا ہو سکتا ہے؟
این او اے اے کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر کے مطابق اس ممکنہ طوفان کا تعلق سورج سے 7 اور 8 اکتوبر کو خارج ہونے والے مادے کے دو بادلوں سے ہے۔ پیش گوئی کے مطابق دوسرا بادل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے حرکت کر رہا ہے، جس کے باعث دونوں بادل زمین تک پہنچنے سے قبل آپس میں مل سکتے ہیں۔
NEWS 🚨: NOAA has issued a storm watch for Saturday night as several solar eruptions head toward Earth
Northern lights could reach as far south as New York, Wisconsin and Washington state, peaking from 11pm to 2am ET https://t.co/eVbGsf7XMD
— Latest in space (@latestinspace) October 9, 2026
جی ٹو درجے کے جیو میگنیٹک طوفان کے دوران بلند عرض البلد والے علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ، ریڈیو مواصلات میں خلل اور سیٹلائٹ نیویگیشن کی درستگی متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش یا روزمرہ زندگی میں وسیع خلل پڑنے کی فی الحال کوئی یقینی پیش گوئی نہیں کی گئی۔
شمسی طوفان کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی قطبی علاقوں میں قدرتی روشنیوں، جنہیں ارورا یا ناردرن لائٹس کہا جاتا ہے، کے نظارے بھی معمول سے زیادہ جنوبی علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔ ان روشنیوں کا ظاہر ہونا شمسی مادے کی خصوصیات اور مقامی فضائی حالات پر منحصر ہو گا۔
مجموعی طور پر 11 اکتوبر کے لیے جاری کی گئی وارننگ ایک پیش گوئی ہے، حتمی صورتحال نہیں۔ سورج سے خارج ہونے والے مادے کی رفتار اور مقناطیسی خصوصیات کے مطابق زمین پر اس کے اثرات میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس لیے طوفان کی شدت اور ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ واضح صورت حال اس کے زمین کے قریب پہنچنے پر سامنے آئے گی۔
شمسی طوفان کیا ہے؟
شمسی طوفان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سورج پر ہونے والی سرگرمیوں کے نتیجے میں توانائی اور مادہ خلا میں خارج ہوتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ ‘کورونا ماس ایجیکشن’ ہے، جس میں سورج سے برقی چارج رکھنے والے ذرات اور مقناطیسی مادے کے بڑے بادل خلا میں خارج ہوتے ہیں۔
Multiple solar storms have launched from the Sun over the last few days, and the first #spaceweather impacts have begun here at 1 AU as more waves of plasma are soon to arrive. NOAA expects minor to moderate (G1-G2) geomagnetic storming, and it’s possible it goes higher… https://t.co/tcZs8bCmZo
— Stefan Burns (@StefanBurnsGeo) October 9, 2026
جب یہ بادل زمین کے قریب پہنچتے ہیں تو سیارے کے مقناطیسی میدان میں خلل پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں جیو میگنیٹک طوفان جنم لیتا ہے۔
🚨 The Sun just fired off a powerful M6.7 flare, blasting plasma into space and destabilizing a nearby filament. ☀️😳
And another solar storm is already heading our way, while effects from an earlier CME are expected today, Oct. 9.
The Sun is seriously active right now. https://t.co/gVSQFUiUra
— Mindbeast (@mindbeast) October 9, 2026
این او اے اے ایسے طوفانوں کی شدت کو پانچ درجوں میں تقسیم کرتا ہے۔ جی ون معمولی جبکہ جی فائیو انتہائی شدید طوفان کی نشاندہی کرتا ہے۔ درجہ جتنا زیادہ ہو، ممکنہ خلل کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ شمسی تابکاری کے طوفانوں اور ریڈیو بلیک آؤٹ کے لیے الگ پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں، جو خلائی موسم کے مختلف اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔



