شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں مبینہ ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاری کر لی گئی ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام “پاکستان ٹونائٹ” میں تحریک انصاف کے احتجاج، لانگ مارچ، خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور سیاسی مذاکرات کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف نے 40 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن احتجاج کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں تھی جبکہ ثمر ہارون بلور نے کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف تھا ہی نہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف نے 27 تاریخ کو اس لیے پیش قدمی نہیں کی تاکہ مذاکرات کے لیے کچھ وقت مل سکے۔ مذاکرات کا اعلامیہ جاری ہونے والا تھا تو محمود اچکزئی سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے پیغام دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ لکی مروت میں جمع ہونے والے مجمعے میں پورے جنوبی اضلاع کے لوگ شامل تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت صوبے میں ترقیاتی کام روک دیے گئے ہیں اور تمام ارکان قومی اسمبلی، ارکان صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزرا کے فنڈز منجمد کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے دعوت دی ہے کہ اگر احتجاج کے لیے آنا ہے تو 15 اکتوبر سے پہلے آ جائیں۔ ان کے بقول، مارچ کرنا ہوتا تو یہ لوگ اب تک نکل چکے ہوتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کون سی چیز انہیں مارچ کرنے سے روک رہی ہے؟
ثمر ہارون بلور کی تحریک انصاف پر تنقید
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف تھا ہی نہیں اور احتجاج کے حوالے سے بھی کوئی تیاری نظر نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی توجہ گورننس پر نہیں ہے اور حکومتی عہدیدار دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تک نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی سرگرمیوں سے کسی اجتماعی لانگ مارچ کا منصوبہ دکھائی نہیں دیتا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان پر گفتگو
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاری کر لی گئی ہے اور گزشتہ روز کہا گیا تھا کہ ایمرجنسی کو 12 اضلاع تک محدود رکھا جائے گا۔
انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کو حماقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی اکابرین چاہتے ہیں کہ انہیں بھی کچھ عرصے کے لیے حکومت مل جائے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اختیارات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بس اتنا اختیار ہے کہ وہ ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔
عامر ڈوگر کو مذاکرات کے اگلے دور کی امید
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عامر ڈوگر نے کہا کہ جنگ کے دوران بھی کہیں نہ کہیں بات چیت جاری رہتی ہے۔ ان کے مطابق، اتنے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دو سیشن بہت کم تھے۔
عامر ڈوگر نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا تیسرا سیشن جلد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اس وقت کوئٹہ میں ہیں اور اگر وہ آج واپس آ جاتے تو بہت سے معاملات بہتر ہو سکتے تھے۔
پروگرام میں شرکا کی گفتگو سے واضح ہوا کہ تحریک انصاف کے احتجاجی لائحہ عمل، خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور سیاسی مذاکرات کے مستقبل پر مختلف سیاسی حلقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔



