وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس دوران ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی طریقے سے مسائل حل کرنے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔
پی ٹی آئی نے 3 اکتوبر کو حکومت کیساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے اگلے روز لکی مروت سے اپنے مطالبات کے حق میں لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا جو آج چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ مارچ کے تیسرے روز یعنی 6 اکتوبر کو وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پارٹی احتجاج ختم کرتی ہے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
اب مولانا فضل الرحمان کیساتھ گفتگو میں ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سیاسی طریقے سے مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر چکی ہے اور مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم اپوزیشن کو وفاقی ارالحکومت کی جانب پیش قدمی سے گریز کرنا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملک کی سیاسی صورتِ حال، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے سیاسی مسائل مذاکرات اور باہمی مفاہمت سے حل کرنے پر زور دیا۔
شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی خدمات اور مفاہمتی کردار کو بھی سراہا۔
ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ پر اصرار اور دہشت گردی کے معاملے پر مبینہ طور پر مطلوبہ اقدامات نہ کرنے سے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات دور کرنے کے لیے اب بھی وقت ہے اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے کئی معاملات میں پیش رفت ممکن ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان سے حکومتی اور اپوزیشن کے وفد نے الگ الگ ملاقات کی تھی جس کے بعد حکومتی مذاکراتی ٹیم نے وزیر اعظم کو بریف کیا تھا کہ مولانا فریقین میں ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلئے کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
