امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جس کے بعد امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت کو ‘باغی عدالت’ قرار دیا اور کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی شہریوں کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کی کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی عائد کرے گا، اس کے وسائل تک رسائی محدود کرے گا اور اس کی کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرے گا۔ ان کے مطابق پابندیوں کا مقصد عالمی عدالت کو امریکی تحفظات دور کرنے کا موقع دینا بھی ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا اپنے اقدامات میں مزید تبدیلی کر سکتا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت کا ردعمل
عالمی فوجداری عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان نے امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی اور ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود عدالت اپنی تحقیقات، مقدمات اور دیگر کارروائیاں جاری رکھے گی۔
اسرائیلی حکام کے وارنٹ بھی تنازعے کی وجہ
امریکا طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کے بعض اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ واشنگٹن نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے پر عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکا کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات سے متعلق عدالت کی سابقہ تحقیقات پر بھی اعتراض رہا ہے، اگرچہ اس معاملے کی متعلقہ تحقیقات عدالت بند کر چکی ہے۔
عالمی فوجداری عدالت 2002 میں قائم ہوئی تھی اور اسے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت کے 125 رکن ممالک ہیں، جن میں یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکا کے سوا نیٹو کے بیشتر ارکان شامل ہیں۔ امریکا خود اس عدالت کا رکن نہیں ہے۔
پابندیوں میں بعض استثنیٰ بھی شامل
امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیوں کے اعلان کے بعد چار عمومی لائسنس جاری کیے، جن کے تحت عدالت کی ٹیلی مواصلاتی خدمات، سافٹ ویئر، پنشن کی ادائیگیوں اور زیر حراست افراد سے متعلق بعض لین دین کی اجازت دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی فوجداری عدالت کے حکام ممکنہ پابندیوں کے پیش نظر پہلے ہی متبادل انتظامات کر رہے تھے۔ ان اقدامات میں مائیکروسافٹ سافٹ ویئر کے بجائے اوپن سورس متبادل استعمال کرنا اور بینکاری و ہیلتھ انشورنس کے نئے انتظامات شامل ہیں۔
یورپی اتحادیوں سے بھی مطالبہ
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے پابندیاں عائد کرنے میں تاخیر کی تاکہ عالمی فوجداری عدالت اور اس کے رکن ممالک امریکی تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کریں، تاہم ان کے بقول ایسا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے امریکی اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کے اقدامات کو محدود کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
دوسری جانب عدالت کے حکام نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسا قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کے لیے تیار رہے جس سے یورپی اداروں اور کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کے بیرونِ ملک اثرات سے تحفظ دیا جا سکے۔
یہ پیش رفت عالمی فوجداری انصاف، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ سے متعلق امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
امریکا کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں قابل افسوس ہیں، یورپی کمیشن
یورپی یونین نے امریکا کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں عائد کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے فیصلے کو قابل افسوس قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین عالمی عدالت کی مؤثر کارروائیوں کے لیے اس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
یورپی کمیشن کے مطابق یورپی یونین عالمی فوجداری عدالت کی مسلسل حمایت کرتی رہی ہے اور بین الاقوامی انصاف کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے عدالت کے ساتھ کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
یورپی کمیشن نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت پر امریکی پابندیوں کے نفاذ میں چھ ماہ کی تاخیر کی گنجائش موجود ہے، جس سے فریقین کے درمیان بات چیت اور اختلافات دور کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ عالمی فوجداری عدالت بین الاقوامی سطح پر انصاف کی فراہمی اور سنگین جرائم کے احتساب میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اس کی مؤثر کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے تعاون ضروری ہے۔



