امریکہ کے شہر نیویارک میں امیگریشن حکام نے 5 سالہ بچے کے سامنے ایک شخص کو فائرنگ کر کے زخمی کیا جس پر میئر ظہران ممدانی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ‘صدر ٹرمپ سے بات کریں گے۔’
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت 5 سالہ بچہ گاڑی میں موجود تھا، تاہم بچے کو جسمانی طور پر نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ہے۔
بعض میڈیا رپورٹس میں گاڑی میں موجود بچے کو زخمی شخص کا بیٹا بتایا گیا ہے کہ تاہم امریکی حکام نے اس بارے میں کوئی وضاحت جاری نہیں کہ دونوں کا آپس میں کیا رشتہ تھا اور اتنا چھوٹا بچہ اس شخص کی گاڑی میں کیا کر رہا تھا۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق امیگریشن اہلکاروں نے گاڑی کو گھیرنے کے بعد متعدد گولیاں چلائیں۔
I am angry tonight.
Because today ICE shot a New Yorker. They shot a New Yorker while his five year old child was in the car.
ICE makes this city less safe.
We want them out. Now. https://t.co/ZizKB0OP7S
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) October 9, 2026
ممدانی نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں گے اور ان سے نیویارک میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی تمام کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کمنیونٹی میں خوف و ہراس پھیلانے والی کارروائیوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ جمعرات کی سہ پہر تقریباً 4 بجے برونکس کے علاقے ماربل ہِل میں پیش آیا۔ زخمی شخص کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق زخمی شخص واقعے کے بعد ہوش میں تھا۔ محکمہ پولیس نے واضح کیا کہ اس کے اہلکار فائرنگ میں ملوث نہیں تھے اور معاملے کی تحقیقات وفاقی حکام کر رہے ہیں۔
Breaking 🚨 🇺🇸
Anti-ICE protests escalate in NYC following a federal shooting. Federal agents blocked a congressman at the hospital, where staff report the wounded patient was not taken to the OR. https://t.co/sKOH5sikka— Terror Alerts (@Terroralerts007) October 9, 2026
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ اہلکار برونکس میں ایک کارروائی کے دوران ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کا مجرمانہ ریکارڈ تھا۔
محکمے کے مطابق کارروائی کے دوران ایک امیگریشن اہلکار نے اپنی بندوق سے فائر کیا، جس کے نتیجے میں مذکورہ شخص زخمی ہوا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اہلکاروں نے فوری طور پر اسے طبی امداد فراہم کی اور اسے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عینی شاہد نے کیا دیکھا؟
واقعے کے قریب ایک ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے پیڈرو الماریز نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گولیوں کی آواز سنی تو باہر نکل کر دیکھا کہ جائے وقوعہ پر آئی سی ای کے لباس میں ملبوس کئی امیگریشن اہلکار موجود تھے۔
ان کے مطابق وہاں 3 سے 4 گاڑیاں بھی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیویارک پولیس کے اہلکار تقریباً 10 منٹ بعد پہنچے، جبکہ زخمی شخص کو اس کی گاڑی سے ایمبولینس آنے کے بعد نکالا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو زرد رنگ کی ٹیپ لگا کر گھیرے میں لے لیا۔ رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق قریب واقع عمارت کی بالکونی میں کھڑی ایک خاتون اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے بچوں کو لے جانے پر احتجاج کر رہی تھیں۔
ٹرمپ کے دور میں 21 افراد پر فائرنگ
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کی ملک بدری کی کارروائیوں میں اضافے پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 21 افراد کو گولیاں لگ چکی ہیں، جن میں سے 7 ہلاک ہوئے ہیں۔
Shoot First, Label Terrorism Later: ICE Kills a Woman, Noem Tries to Close the Case
Kristi Noem branding the victim a “domestic terrorist” before an investigation is finished is reckless and misleading. That label implies intent and political violence that have not been established, especially when local officials dispute DHS’s account and say video evidence shows the woman was driving away when shots were fired, undermining the self-defense claim. The rhetoric pre-justifies lethal force, pressures investigators and witnesses, and poisons public trust. Until evidence is fully released and the key question—whether there was an imminent threat at the moment shots were fired—is answered, Noem’s framing isn’t leadership or analysis. It’s narrative control that escalates tensions and undermines legitimacy.
References
[1] Reuters (Jan 7, 2026). “U.S. immigration agent fatally shoots woman in Minneapolis; mayor disputes self-defense claim.”
https://t.co/BDpQtWhmZD[2] Associated Press (Jan 7, 2026). “Minneapolis mayor says ICE officer’s killing of a motorist was ‘reckless’ and not self-defense.”
https://t.co/XuEgdA7pO2[3] C-SPAN (Jan 7, 2026). DHS Secretary Kristi Noem calls the ICE-involved shooting an “act of domestic terrorism.”
https://t.co/c3vBD8EV6L[4] MPR News (Jan 7, 2026). “Frey, Walz dispute ICE claim that killing of woman was self-defense; video shows car driving away.”
https://t.co/BCYHUO0ANL— P a u l ◉ (@SkylineReport) January 7, 2026
حکومت کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ ملک بدری کی کارروائیوں میں تیزی کے باعث امیگریشن اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان پُرتشدد تصادم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ وہ ان کارروائیوں میں ملوث اہلکاروں کے احتساب کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
تاہم نیویارک میں پیش آنے والے تازہ واقعے کے محرکات اور فائرنگ کے حالات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ وفاقی حکام کی تحقیقات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ کارروائی کے دوران فائرنگ کن حالات میں کی گئی۔
