پنجاب اسمبلی میں گندم کی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کے لیے تحریکِ التوائے کار جمع کروا دی گئی۔
پی ٹی آئی کسان ونگ کے جنرل سیکرٹری اور رکن پنجاب اسمبلی اعجاز شفیع کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک میں گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں پرایوان میں بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تحریکِ التوائے کار کے متن کے مطابق قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سکیورٹی نے گندم کی امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔
تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
متن میں کہا گیا ہے کہ گندم کی قیمت کے حوالے سے حکومتی پالیسی کا براہ راست اثر کسانوں، آٹا ملز اور عام شہریوں پر پڑتا ہے، اس لیے اس معاملے کو فوری طور پر صوبائی اسمبلی کے ایوان میں زیر بحث لایا جانا چاہیے۔
تحریک کے مطابق پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث آٹا اور روٹی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے، جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اعجاز شفیع کی تحریک التوا میں بڑا دعویٰ
اعجاز شفیع کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میں آٹے کی قیمت 8 ہزار روپے فی من جبکہ روٹی کی قیمت 30 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
متن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر فوری توجہ دی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تحریکِ التوائے کار میں کہا گیا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری کے باوجود پنجاب حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی عملی قدم نہ اٹھانا تشویش کا باعث ہے۔
متن کے مطابق گندم کی قیمت کا معاملہ کسانوں کی آمدن اور صوبے میں آٹے اور روٹی کی قیمتوں سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
اس لیے حکومت کو گندم کی امدادی قیمت کے تعین کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں آٹے اور روٹی کی قیمتوں کو بھی قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
پی ٹی آئی رکن اسمبلی اعجاز شفیع نے تحریک میں مطالبہ کیا ہے کہ اسے باضابطہ تحریکِ التوا قرار دے کر ایوان میں بحث کی اجازت دی جائے تاکہ گندم کی امدادی قیمت، پنجاب حکومت کی پالیسی اور آٹے و روٹی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پرارکان اسمبلی تفصیلی بحث کرسکیں۔
تحریک میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں گندم کی قیمت کا معاملہ محض کسانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات براہ راست عام صارف تک پہنچ رہے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو اس معاملے پر واضح پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔



