اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے اورعوام کو اشتعال دلانے کے الزامات کے تحت تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی جس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔
Imaan & Hadi were produced on video link where they told judge that they were never given any court order on charges nor lawyer allowed to meet for consultation but Judge Sipra adamant & went ahead to frame charges & did not bother to even wait for response from Imaan & Hadi! Once again due process totally flouted.
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) October 7, 2026
سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک کیس کی کاپیز بھی نہیں ملیں۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی وکیل زینب جنجوعہ نے بھی عدالت میں اعتراضات اٹھائے۔
زینب جنجوعہ نے کہا کہ نہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کیس کی کاپیز فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی وکلا سے ملاقات ہوئی ہے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت تمام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فرد جرم عائد نہیں کرسکتی۔
عدالت نے ملزمان اور ان کی وکیل کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی۔
اس موقع پر جج طاہر عباس سپرا نے زینب جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس آرڈر کو چیلنج کرسکتی ہیں۔
عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 اکتوبر2026 تک ملتوی کردی۔
شیریں مزاری نے کیا کہا؟
ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ صورتحال کا پیٹرن واضح ہے۔
So the pattern is clear. Ever since SC suspended their tweets sentence, govt is speedily seeking convictions in one FIR after another to keep them illegally incarcerated. Have some shame @CMShehbaz you get your daughter & son in law freed on alleged graft cases speedily but deny Imaan & Hadi even due legal process forget abt giving justice.
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) October 7, 2026
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ان کی اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کیے جانے کے بعد حکومت مسلسل درج ہونے والے مقدمات میں سزائیں دلوانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ دونوں کو “غیر قانونی طور پر قید” رکھا جا سکے۔


