وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو ہر قیمت پر روکنا ہو گا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیرمقام نے ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی ہو۔
وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جاری امور اور پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔
‘آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے’
وزیراعظم نے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقی اور عوام کی خوشحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
واضح رہے خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے میں دہشتگردی کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ آج کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہو گئے۔
گزشتہ روز ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ گومل یونیورسٹی کی حدود میں قریشی موڑ ابھایہ پل کے قریب دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 کسٹم اہلکار شہید ہوئے تھے۔ جبکہ دوسرا واقعہ تھانہ ڈیرہ کی حدود مفتی محمود چوک کے قریب پیش آیا جہاں دہشتگردوں نے ٹریفک پولیس موبائل کو نشانہ بنا کر کانسٹیبل ڈرائیور محمد حبیب کو شہید کر دیا۔
ٹانک میں پولیس گاڑی پر فائرنگ
گزشتہ ماہ 28 ستمبر 2026 کو ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے ایک دن قبل 27 ستمبر کو ضلع لکی مروت میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد شہید جبکہ 3 زخمی ہو گئے تھے۔
26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہو ئے تھے۔
18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 21 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔



