صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط بنانے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں طے کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد کل پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کل دن 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں ہو گی۔
مشترکہ وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور امیر مقام جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہوں گے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات، ملک کی مجموعی سیاسی، اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ،… pic.twitter.com/9dRyQ9hVoE
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 1, 2026
واضح رہے کہ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ، اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا کی صورتحال
پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ مارچ ابتدا میں 27 ستمبر کو ہونا تھا تاہم پی ٹی آئی نے اسے مؤخر کرکے 4 اکتوبر 2026 کو کرنے کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے دیگر سیاسی و آئینی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے مارچ کو پرامن رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کی جانب مارچ کے انتظامات تشویش کا باعث ہیں، حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی بڑھانے اور اہم راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال بھی اس سیاسی کشیدگی کا اہم پس منظر ہے۔ حالیہ عرصے میں صوبے میں دہشتگردی کے واقعات اور پاک افغان سرحد سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی اور وسائل کے استعمال پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔
لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا ذکر بھی سامنے آیا۔ حکومتی نمائندوں نے کہا ہے کہ آئینی طریقہ کار کے تحت اس آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس امکان کی مخالفت کی ہے۔
اسی دوران سیاسی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے یکم اکتوبر کو بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان لانگ مارچ کے معاملے پر غیر رسمی رابطے جاری ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت بھی حکومت سے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرچکی ہے۔
اسی پس منظر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد کی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کے بارے میں اہم فیصلہ کیا گیا۔



