اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے امن و امان اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے منعقدہ امن جرگے کے مشترکہ اعلامیے پر مؤثر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔
بابرسلیم سواتی کے اپنے ایکس اکاؤنٹ پرجاری بیان کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبے میں امن وامان اوردہشتگردی کے چیلنجز کے حوالے سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرزسے مشاورت کا عمل شروع کیا۔
جس کا مقصد موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اوردہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔
اسپیکربابرسلیم سواتی کے مطابق 12 نومبر 2025 کو امن جرگہ منعقد کیا گیا تھا، جس میں 30 سے زائد سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نمائندگان نے شرکت کی۔
امن جرگے میں 30 سے زائد سیاسی جماعتوں کی شرکت
جرگے میں صوبے کے عوام کو درپیش امن و امان کے مسائل اور دہشتگردی کے حوالے سے اجتماعی خدشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے دہشت گردی، امن و امان اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگہ 2025 کے مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم@CMShehbaz کو خط ارسال کردیا۔
اسپیکر نے خط میں کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے چیلنجز کا جائزہ لینے کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل شروع کیا۔ اسی سلسلے میں 12 نومبر 2025 کو امن جرگہ منعقد کیا گیا، جس میں 30 سے زائد سیاسی جماعتوں کے قائدین، منتخب نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔مشاورت اور تفصیلی غور کے بعد امن جرگے میں خیبر پختونخوا کے عوام کے اجتماعی خدشات اور امن، سلامتی اور دیرپا امن کے قیام سے متعلق متفقہ مشترکہ اعلامیہ مرتب کیا گیا، جو وزیراعظم کے دفتر کو بھی ارسال کیا جا چکا ہے۔
اسپیکر نے خط میں مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی نے صوبائی حکومت کے متعلقہ محکموں اور اداروں سے سکیورٹی صورتحال، درپیش خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگز حاصل کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی کا مقصد سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں مداخلت نہیں بلکہ منتخب نمائندگان کو اپنے عوام سے متعلق اہم معاملات پر مکمل طور پر باخبر رکھنا تھا۔
اسپیکر کے مطابق خصوصی کمیٹی نے ان بریفنگز کی روشنی میں ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے، جسے وفاقی حکومت کو نیشنل ایکشن پلان میں مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے لیے شامل کرنے کی غرض سے پیش کیا جائے گا۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ خصوصی کمیٹی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور XI کور کے کور کمانڈر کے دفتر کے ساتھ مشاورت کے بعد رپورٹ کو حتمی شکل دے گی، جسے خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظوری کے بعد تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوام کے منتخب نمائندوں کی قیادت میں، عوامی ملکیت اور عوامی شمولیت پر مبنی کوششوں میں وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
اسپیکر نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے لیے وسیع تر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور امن جرگہ کے مشترکہ اعلامیے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔— Babar Saleem Swati (@BabarSaleemSwat) October 5, 2026
خط میں بتایا گیا کہ امن جرگے کے دوران تمام شرکا کی مشاورت سے ایک متفقہ مشترکہ اعلامیہ مرتب کیا گیا، جس میں صوبے میں پائیدار امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
امن جرگے کا مشترکہ اعلامیہ وزیراعظم کے دفتر کو بھی ارسال کیا جاچکا ہے۔
خصوصی سیکیورٹی کمیٹی کی مشاورت اور بریفنگز
اسپیکر نے خط میں مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی خصوصی سیکیورٹی کمیٹی نے بھی امن و امان کی صورتحال اور دہشتگردی کے چیلنجز کے حوالے سے متعلقہ محکموں اور اداروں سے تفصیلی بریفنگز حاصل کی ہیں۔
خصوصی کمیٹی کے قیام کا مقصد منتخب نمائندگان کو صوبے کو درپیش اہم سیکیورٹی معاملات سے باخبر رکھنا اور زمینی حقائق کی روشنی میں قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنا تھا۔
خط کے مطابق کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے حاصل ہونے والی بریفنگز اور معلومات کی روشنی میں ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے۔
اس رپورٹ کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشتگردی کے اقدامات کیلئے وفاقی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
رپورٹ کور کمانڈر سے مشاورت کے بعد حتمی ہوگی
بابر سلیم سواتی نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ خصوصی سیکیورٹی کمیٹی کور کمانڈر الیون کور کے دفتر سے مشاورت کے بعد اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے گی، اس کے بعد رپورٹ خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظوری کیلئے پیش کی جائے گی۔
اسپیکر کے مطابق اسمبلی سے منظوری کے بعد جامع رپورٹ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی شیئر کی جائے گی تاکہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں اداروں اور منتخب نمائندگان کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون یقینی بنایا جاسکے۔
قومی اتفاق رائے کیلئے وزیراعظم سے کردار ادا کرنے کی اپیل
خط میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے۔
تاہم امن کے حصول کیلئے کی جانے والی کوششیں منتخب نمائندوں کی قیادت، عوامی ملکیت اور عوام کی شمولیت پر مبنی ہونی چاہئیں۔
اسپیکربابرسلیم سواتی نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ پائیدارامن کے قیام کیلئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور امن جرگے کے مشترکہ اعلامیے پر مؤثر عملدرآمد کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔



