جنوبی کوریا کے ایک سرکاری کیئر سینٹر میں اس کے ڈائریکٹر کی جانب سے ذہنی معذوری کی شکار خواتین کا ریپ کرنے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں تشویش پھیل گئی ہے۔
بی بی سی کے مطابق سیئول کی ایک عدالت نے رواں ماہ مرکز کے ڈائریکٹر کو2 معذور خواتین کا ریپ کرنے کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی۔ ڈائریکٹر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیل کر دی ہے۔
مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سینٹر کا ڈائریکٹر وہاں رہنے والی بعض معذور خواتین کو اسے “ڈیڈ” یعنی ابو کہہ کر پکارنے پر مجبور کرتا تھا۔ استغاثہ کے مطابق یہ طرز عمل ڈائریکٹر اور زیرِ نگہداشت معذور افراد کے درمیان طاقت کے غیر مساوی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
متاثرہ خواتین میں سے ایک اب لگ بھگ 40 سال کی ہیں اور ذہنی معذوری کے باعث مکمل اور طویل جملے بولنے میں دشواری کا سامنا کرتی ہیں۔ انہوں نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا، “میں اندر سے ٹوٹ چکی تھی، اس لیے اپنی کہانی بتانے آئی ہوں۔”
انہوں نے 2016 میں انچیون کے ‘سیک ڈونگ وون’ نامی کیئر سینٹر میں رہنا شروع کیا۔ یہ ادارہ ریاستی سرپرستی میں چلتا ہے اور اس وقت بھی تقریباً 33 افراد وہاں مقیم تھے، تاہم واقعے کے بعد اسے بند کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔
خاتون 10 سال تک ظلم سہتی رہی
متاثرہ خاتون کے مطابق مرکز میں رہائش اختیار کرنے کے کچھ عرصے بعد ڈائریکٹر رات کو یا صبح سویرے ان کے کمرے میں آتا اور ان کا ریپ کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز میں کوئی ایسا بالغ فرد موجود نہیں تھا جس سے وہ اس بارے میں بات کر سکتیں اور انہیں عملے سے بھی مدد ملنے کی امید نہیں تھی۔
یہ سلسلہ تقریباً 10 سال تک جاری رہا اور فروری 2025 میں ایک واقعے کے بعد معاملہ سامنے آیا۔
خاتون کے مطابق ایک مرتبہ جب ڈائریکٹر آیا تو انہوں نے ہاتھوں سے اسے روکنے کی کوشش کی، جس پر اس نے خاتون کے سر پر شیشے کا گلاس دے مارا۔ سینٹر کی انتظامیہ نے انہیں اسپتال منتقل کیا اور زخم پر ٹانکے لگنے کے بعد ان کی والدہ کو واقعے سے آگاہ کیا۔
خاتون کی والدہ نے بیٹی کے زخمی ہونے کی اصل وجہ جاننے کے لیے انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کی، تاہم انتظامیہ نے انکار کر دیا۔
اس کے بعد والدہ اپنی بیٹی کو گھر لے آئیں اور اسے سینٹر واپس نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ خاتون نے اپنی والدہ کو جنسی زیادتی کے بارے میں اسی وقت بتایا جب انہیں یقین دلایا گیا کہ انہیں دوبارہ اس سینٹر میں نہیں بھیجا جائے گا۔ بعد ازاں والدہ نے پولیس کو اطلاع دی۔
‘میں برداشت کرتی رہی’
خاتون نے اپنے وکیل کے ذریعے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں لگا کہ اب وہ محفوظ طریقے سے بات کر سکتی ہیں کیونکہ انہیں سینٹر واپس نہ جانے کا یقین دلایا گیا تھا۔ تقریباً 10 سال تک اس صورتحال سے کیسے نمٹتی رہیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، “میں بس برداشت کرتی رہی۔”
پولیس کی تحقیقات کے دوران مزید خواتین سے پوچھ گچھ کی گئی اور کم از کم 2 مزید مبینہ متاثرین کا پتا چلا، جنہوں نے ڈائریکٹر پر زیادتی کا الزام عائد کیا۔
عدالت نے رواں ماہ تینوں متاثرین کے بیانات کو قابلِ اعتبار قرار دیا۔ ڈائریکٹر کو 2 خواتین سے ریپ کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو استغاثہ کی جانب سے مانگی گئی سزا سے 5 سال کم تھی۔
گزشتہ برس نومبر میں مقامی حکام نے ووسک یونیورسٹی کی ایک ٹیم کو سینٹر میں زیرنگہداشت معذور خواتین کا تفصیلی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ عدالت میں پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کم از کم مزید 10 خواتین کے ساتھ بھی ریپ کے شواہد یا اشارے ملے ہیں، تاہم مقدمے کے دوران عدالت نے اس نتیجے پر غور نہیں کیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کو بعض خواتین سے معلومات حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان میں سے بیشتر شدید ذہنی معذوری کے باعث بات چیت نہیں کر سکتیں تھیں۔ بعض سوالات کے غیر متعلقہ جواب دیتیں یا پھر خاموش رہتیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ پروفیسر جیون جی سو نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کاروں نے صرف ان افراد کے بیانات قبول کیے جو مکمل جملوں میں ریپ کی تفصیلات بیان کر سکتے تھے۔
معذور افراد سے ریپ کے متاثرین کے لیے کام کرنے والے ایک مشاورتی مرکز کی نمائندہ بیک اِن سیونگ نے کہا کہ اگر متاثرین اپنے تجربات اس انداز میں بیان نہ کر سکیں جس کی تفتیش کار توقع کرتے ہیں تو ریاست کو ان کی آواز سننے کے لیے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔
پولیس نے کہا ہے کہ بعض معاملات میں خامیاں ہو سکتی ہیں، تاہم انہیں پوری تحقیقات کی نمائندگی نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس مقدمے نے جنوبی کوریا میں معذور افراد کے لیے قائم کیئر سینٹر کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 2011 میں ایک فلم ‘ڈوگانی’ کی ریلیز کے بعد ملک میں معذور افراد کو ریپ سے تحفظ دینے کے لیے قوانین سخت کیے گئے تھے۔ فلم میں سماعت سے محروم بچوں کے ایک اسکول میں حقیقی واقعات پر مبنی ریپ کی کہانی پیش کی گئی تھی۔
اس کے بعد معذور افراد کے خلاف جنسی جرائم کی مزید واضح درجہ بندی، کیئر سینٹر کے ڈائریکٹرز اور ملازمین کی جانب سے جرائم پر سخت سزائیں اور بعض مقدمات میں مدتِ دعویٰ ختم کرنے جیسے اقدامات کیے گئے۔
متاثرہ خواتین کے اہل خانہ بھی مجبور ہیں
تاہم سیک ڈونگ وون میں ریپ کا سلسلہ مقامی حکام کے باقاعدہ معائنے کے باوجود جاری رہا۔ ایک ضلعی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ معائنے زیادہ تر کاغذی کارروائی تک محدود رہے اور خواتین سے صرف اس وقت بات کی جاتی تھی جب کوئی مخصوص مسئلہ سامنے آتا۔
رپورٹ کے مطابق بعض خاندانوں کو بھی سینٹر میں ریپ کا شبہ تھا، لیکن وہ شکایات سامنے لانے سے ہچکچاتے تھے کیونکہ سینٹر چھوڑنے کی صورت میں ان پر اپنے معذور رشتہ داروں کی مکمل دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد ہو جاتی، جبکہ متبادل رہائشی سہولت حاصل کرنا بھی آسان نہیں۔
والدین کی ایک تنظیم کے سروے کے مطابق معذور افراد کے رہائشی مراکز میں جگہ حاصل کرنے والے تقریباً 60 فیصد افراد کو کم از کم 3 سال انتظار کرنا پڑا، جس سے مناسب نگہداشت کی سہولتوں تک رسائی کی دشواری ظاہر ہوتی ہے۔
ووسک یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف کاگنیٹو سائنس کے سربراہ پروفیسر کم یون تے کے مطابق ایسے سینٹر معذوروں کی روزمرہ زندگی پر بہت زیادہ اختیار رکھتے ہیں، جس میں کھانے اور سونے کے اوقات سے لے کر علاج تک رسائی اور باہر جانے کی اجازت شامل ہے۔
معذوروں کے حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق سیک ڈونگ وون کا واقعہ اپنی نوعیت اور طویل عرصے تک ریپ کے باعث غیر معمولی ضرور ہے، تاہم یہ واحد واقعہ نہیں۔ 2023 میں ایک عدالت نے یونگ چیون کے ایک مرکز میں 2 ذہنی معذور خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملازم کی 8 سال قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔ ایک دوسرے مقدمے میں آن سیونگ کے ایک کیئر سینٹر کے ملازم کو 2022 میں ایک معذور خاتون سے بار بار ریپ کے جرم میں حال ہی میں 6 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ریپ کے مزید 33 مشتبہ واقعات
جنوبی کوریا کی حکومت نے اپریل میں کہا تھا کہ ملک بھر میں معذور افراد کے ایک ہزار 507 کیئر سینٹرز کا معائنہ کیا گیا، جن میں ریپ کے 33 مشتبہ واقعات سامنے آئے۔ ان میں سے 8 کی تحقیقات شروع کی جا چکی تھیں۔
حکومت نے خطرے کے عوامل کی بنیاد پر خصوصی معائنے، مقامی انتظامیہ، پولیس اور معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مشترکہ معائنے بھی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
گنگھوا کاؤنٹی نے سیک ڈونگ وون کو بند کرنے کا حکم دیا جبکہ مرکز چلانے والی فاؤنڈیشن کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا گیا۔ تاہم باقی معذور خواتین کی منتقلی اور آزادانہ زندگی کے لیے انتظامات مکمل ہونے تک بندش کا عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔
مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ سینٹر میں رہنے والی تمام 33 خواتین کو انفرادی بنیادوں پر آزادانہ زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سیک ڈونگ وون نے لائسنس کی منسوخی کے خلاف انتظامی عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔
سینٹر چھوڑنے کے بعد اپنی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی کے بارے میں متاثرہ خاتون نے کہا، “اب مجھے سکون محسوس ہوتا ہے، میں ہر روز خوش رہتی ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اب وہ اپنی مرضی سے کھا اور سو سکتی ہیں۔
وہ چاہتی ہیں کہ سینٹر کے ڈائریکٹر سے دوبارہ کبھی ان کا واسطہ نہ پڑے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ معذور افراد کو اب بھی ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
ان کے الفاظ میں، “میں امید کرتی ہوں کہ ایسی کیئر کی سہولت ہو جہاں ریپ نہ ہو اور ہم جیسے معذور افراد سکون سے زندگی گزار سکیں۔”
