سنگرولی: بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ’مس پریٹی انڈیا 2024‘ کی فاتح نِدھی تیواری 30 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نِدھی تیواری ماڈلنگ اور اداکاری میں کیریئر بنانے کے لیے سرگرم تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کی بڑی تعداد میں مداح موجود تھے۔
مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرولی سے تعلق رکھنے والی نِدھی ہفتے کے روز بھوسا موڑ کے علاقے میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں۔
اہل خانہ نے انہیں فوری طور پراسپتال منتقل کیا، تاہم وہاں موجود ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
پولیس نے نِدھی تیواری کی موت کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور ان کی موت کے حالات و وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک موت کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
سوشل میڈیا پر بڑی مقبولیت
رپورٹس کے مطابق نِدھی تیواری سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں۔ فیس بک پر انہیں تقریباً 9 لاکھ جبکہ انسٹاگرام پر تقریباً 7 لاکھ افراد فالو کرتے تھے۔ ان کی متعدد پوسٹس پر ہزاروں افراد کی جانب سے ردعمل دیا جاتا تھا، جبکہ بعض ویڈیوز کو لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا۔
سوشل میڈیا پر مقبولیت کے باعث نِدھی تیواری وِندھیا خطے کی نمایاں ڈیجیٹل شخصیات میں شمار ہونے لگی تھیں۔ وہ باقاعدگی سے اپنی تصاویر، ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل مواد شیئر کرتی تھیں، جس کے ذریعے انہوں نے بڑی تعداد میں فالوورز بنائے۔
’مس پریٹی انڈیا‘ کا ٹائٹل جیتا
نِدھی تیواری نے 2024 میں ’مس پریٹی انڈیا‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، جس کے بعد ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ ٹائٹل جیتنے کے بعد وہ ماڈلنگ، تقریبات اور ڈیجیٹل مواد کے شعبے میں مزید فعال ہوگئیں۔
رپورٹس کے مطابق نِدھی تفریحی صنعت میں اپنا کیریئر آگے بڑھانا چاہتی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ ماڈلنگ کے ساتھ اداکاری کے میدان میں بھی قدم رکھیں اور فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنائیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے رہی تھیں۔
موت سے پہلے کیا ہوا؟
پولیس نِدھی تیواری کی موت سے قبل پیش آنے والے واقعات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اہل خانہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہفتے کی شام نِدھی فون پر کسی سے بات کررہی تھیں۔
تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ محض فون پر ہونے والی گفتگو یا کسی اور واقعے کو ان کی موت کی وجہ قرار دینا اس مرحلے پر قبل ازوقت ہوگا۔
موروا تھانے کے انچارج ڈاکٹر گیانیندر سنگھ کے مطابق پولیس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نِدھی کے فون کال ریکارڈ، ڈیجیٹل سرگرمیوں اور دیگر دستیاب شواہد کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ موت سے قبل پیش آنے والے واقعات کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔
پولیس اہل خانہ، دوستوں، جاننے والوں اور نِدھی سے وابستہ دیگرافراد سے بھی معلومات حاصل کررہی ہے، حکام کے مطابق تمام شواہد اور بیانات کا جائزہ لینے کے بعد ہی موت کے محرکات اور حالات کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکے گا۔
نِدھی تیواری کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پران کے فالوورز کی جانب سے افسوس اور تعزیت کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک ان کی موت کی حتمی وجہ سے متعلق کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی۔



