سعودی عرب کے صوبہ عسیر میں حوثیوں کا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے کی زد میں آکر ایک شخص زخمی ہوگیا، جبکہ جنوبی شہر نجران میں حوثیوں کے پروجیکٹائل حملے میں اسکول کو نقصان پہنچا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق عسیر کے گورنریٹ احد رفیدہ میں تباہ کیے گئے میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا۔
#الدفاع_المدني : سقوط شظايا اعتراض صاروخ باليستي في محافظة أحد رفيدة بمنطقة عسير نتج عنه إصابة مقيم وأضرار في مصلى داخل مبنى ومركبات. pic.twitter.com/kZUS82I0Vj
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) October 2, 2026
سعودی حکام کے مطابق یہ میزائل جمعے کو یمن کے حوثی باغیوں نے داغا تھا۔
اس سے قبل سعودی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے جنوبی سعودی شہر خمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کردیا۔
ادھر سعودی پریس ایجنسی نے سول ڈیفنس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ جمعے کو نجران میں حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل اسکول پر گرا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا۔
#الدفاع_المدني : سقوط مقذوف معادٍ على مدرسة في مدينة نجران نتج عنه أضرار مادية. pic.twitter.com/A2hkSxU2Og
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) October 2, 2026
ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر ہنگامی امدادی ٹیموں نے کارروائی کی اور ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے مقررہ طریقۂ کار پر عمل کیا گیا۔
یمن میں حوثیوں کے خلاف نئی کارروائی کی تیاری
دریں اثنا، خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی تیاری کررہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیر غور منصوبوں میں بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے ساحلی محاذ سے پیش قدمی یا متعدد محاذوں پر حملے شامل ہیں۔
تیاریوں سے واقف 6 افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ کارروائی آئندہ 6 ہفتوں میں شروع ہوسکتی ہے، جس میں زمینی لڑائی یمنی فورسز کریں گی، جبکہ سعودی عرب فضائی حملوں کے ذریعے معاونت فراہم کرے گا۔ ان یمنی فورسز کی نگرانی ریاض کررہا ہے۔
ذرائع نے رائٹرز کو مزید بتایا کہ امریکا یمن میں سعودی کارروائیوں کے لیے پہلے ہی انٹیلی جنس فراہم کررہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک سعودی عرب کو زیادہ تر دفاعی نوعیت کی فوجی مدد دے رہے ہیں۔ تاہم ان اتحادی ممالک کی براہ راست لڑائی میں حصہ لینے کی توقع نہیں ہے۔
سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں عرب اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے جنگ میں مداخلت کی تھی۔ اس وقت حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا سے حکومت کو بے دخل کردیا تھا۔
ستمبر 2014 سے حوثی گروپ صنعا اور یمن کے کئی صوبوں پر کنٹرول رکھتا ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان 2022 میں ہونے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، تاہم رواں سال ایران جنگ کے پھیلاؤ کے تناظر میں حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
