وزارت اطلاعات و نشریات نے اسلام آباد میں سڑکوں کی مبینہ بندش سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کوئی سڑک بند نہیں کی گئی اور شہریوں کی قانونی نقل و حرکت جاری ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں بعض مقامات پر کنٹینرز احتیاطی تدبیر کے طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کے تحت رکھے گئے ہیں۔
وزارت کے مطابق ان حفاظتی اقدامات کا مقصد شہریوں کی جان و مال، بنیادی ڈھانچے اور حساس تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حفاظتی انتظامات مرتب کرتے وقت متعلقہ جماعت کے ماضی کے پرتشدد واقعات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق موجودہ اقدامات کا مقصد کسی کی قانونی نقل و حرکت کو روکنا نہیں بلکہ امن و امان برقرار رکھنا اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کرنا ہے۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی تمام سڑکیں کھلی ہیں اور شہری معمول کے مطابق قانونی طور پر آمدورفت جاری رکھ سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق محض سڑکوں کے اطراف یا مخصوص مقامات پر کنٹینرز کی موجودگی کو سڑکوں کی بندش قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔
وزارت اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حفاظتی اقدامات کو روڈ بلاکیجز کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ان اقدامات کے پس منظر میں موجود امن و امان اور سیکیورٹی سے متعلق عوامل کو نظر انداز کیا گیا۔
وزارت کے مطابق اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات کا مقصد شہریوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اہم سرکاری و حساس تنصیبات کی حفاظت بھی ہے، بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں حفاظتی اقدامات کو ان کے مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ اس نوعیت کی یکطرفہ رپورٹنگ عوام میں گمراہ کن اور منفی تاثر پیدا کرتی ہے۔
وزارت کے مطابق کسی بھی حفاظتی اقدام کی رپورٹنگ کرتے وقت اس کے پس منظر، قانونی بنیاد اور متعلقہ حکام کے مؤقف کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
الجزیرہ نے اپنی 2 اکتوبر کی رپورٹ میں اسلام آباد میں مارچ سے قبل کنٹینرز کی موجودگی اور اس کے شہریوں و کاروبار پر اثرات کا ذکر کیا ہے، جبکہ اس سے قبل 24 ستمبر کی رپورٹ میں بھی دارالحکومت کے داخلی راستوں اور مختلف شاہراہوں پر رکاوٹوں کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ جھوٹ اور پروپیگنڈا حقائق کا متبادل نہیں ہوسکتے، جبکہ حکومت کی جانب سے کیے گئے حفاظتی اقدامات کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔




