اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی جانب سے پیپلزپارٹی کی سیاسی مذاکرات کی تجویز قبول کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کے سیاسی حل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات خوش آئند ہیں۔
ہم نیوز کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ حکومت نے پیپلزپارٹی کی تجویزکوقبول کرتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مل کرسیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا عمل ملک میں جاری سیاسی معاملات کے حل کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں اپوزیشن اپنا لانگ مارچ غیرمشروط طور پرختم کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کا چیلنج ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پڑوسی ممالک سے دہشتگرد گروہوں کو ملنے والی فعال حمایت کو بھی تشویشناک قراردیا، ان کے مطابق دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ملک کے تمام سیاسی اورریاستی فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر بحیثیت قوم دہشتگردی کے خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا، ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پہلے بھی پرعزم رہی ہے اور آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ قومی سلامتی اور امن و استحکام کے معاملات پر اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں ہوا، جس کے بعد فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کے نمائندے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے رہنما شریک ہوئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ سیاسی صورتحال میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بات چیت کے ذریعے سیاسی معاملات کا حل تلاش کیا جائے گا اور لانگ مارچ سمیت دیگر اختلافی معاملات پر بھی پیش رفت ہوسکے گی۔



