پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما، مذاکراتی رکن اور سابق وفاقی وزیر اعجاز جکھرانی نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہے اور امید ہے کہ بات آگے بڑھے گی۔
ہم نیوزکے مطابق اعجازجکھرانی اپنے ایک بیان میں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے کھل کر بات کی جبکہ ماحول بھی بہتر رہا، ان کا کہنا تھا کہ آج کے مذاکرات سے امید پیدا ہوئی ہے، اب کل کی پیشرفت دیکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ دوسرے فریق نے کل دو بجے تک کا وقت مانگا ہے اور وہ اپنی ٹیم سے مشاورت کرکے دوبارہ مذاکرات میں آئے گا۔
اعجاز جکھرانی کے مطابق مذاکرات میں ہمیں بھی کچھ اقدامات کرنا ہوں گے، جبکہ حکومت کی طرف سے بھی لچک نظر آ رہی ہے۔
پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔ پیپلزپارٹی ہمیشہ مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل کی حامی رہی ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اعجاز جکھرانی نے کہا کہ امید ہے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے ہوں گے اور سیاسی راستہ نکلے گا، ان کے مطابق مذاکرات میں دونوں جانب سے اپنا اپنا مؤقف پیش کیا گیا ہے اور اب فریقین کی مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آئے گا۔
لانگ مارچ ملتوی؟
لانگ مارچ ملتوی کرنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی اپنا بیان دے چکے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے چیئرمین کے بیان پر ہی بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے بقول بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ سیاسی معاملات کا قابل قبول حل نکالا جاسکے۔
اعجاز جکھرانی نے ایک بار پھر مذاکراتی عمل میں ہونے والی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے مذاکرات کے بعد امید پیدا ہوئی ہے، اب دوسرے فریق کی مشاورت اور کل ہونے والی ملاقات کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ماحول بہتر رہنا اور فریقین کا کھل کر اپنے مؤقف کا اظہار کرنا اہم پیشرفت ہے، تاہم آئندہ مرحلے میں ہونے والی بات چیت سے ہی معلوم ہوگا کہ معاملات کس سمت آگے بڑھتے ہیں۔
مذاکراتی رکن میں کون کون شامل؟
اسپیکر آفس کے مطابق آج مذاکرات میں حکومت کی طرف سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری کے علاوہ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان، ارکان قومی اسمبلی نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک تھے۔
دوسری جانب اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، سابق اسپیکر اسد قیصر، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، ملک عامر ڈوگر اورحلیم عادل شیخ نے کی تھی۔



