گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے پورے صوبے کا امن تباہ کر رکھا ہے، اگر پارٹی لانگ مارچ کرنا چاہتی ہے تو کرکے دکھائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سیاسی سرگرمیوں کے بجائے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی گنجائش موجود ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی آئینی اقدام ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی والے پہلے فارم 47 والوں سے بات نہ کرنے کا کہتے تھے، لیکن آج مذاکرات کے لیے سب سے پہلے پی ٹی آئی والے ہی پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں، جنید اکبر اور وزیراعلیٰ کے بیانات دیکھے جائیں تو انتشار پھیلانے کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نہ ڈھیل ہو رہی ہے اور نہ ڈیل ہوگی۔
افغانستان سے آنے والے بیانات پر صوبائی حکومت کا مؤقف واضح نہیں، گورنر
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے بیانات پر صوبائی حکومت کا کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے وہ موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں، تاہم صوبے میں امن و امان اور حکمرانی کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
نئے صوبے ضرور بننے چاہئیں
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ دنیا میں نئے صوبے بنتے ہیں، اگر اراکین اسمبلی چاہیں تو نئے صوبے ضرور بننے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے ریفرنڈم کی باتیں شکوک پیدا کرتی ہیں۔
پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ
فیصل کریم کنڈی نے مرکزی حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو اپنی عیاشیاں بند کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے 13 سال میں سب کچھ دیکھ لیا ہے اور اب عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کا پس منظر
پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، جس کا ابتدائی شیڈول 27 ستمبر 2026 رکھا گیا تھا۔ پارٹی نے بعد ازاں لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کردی۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق مارچ پشاور سے روانہ ہونا ہے اور پارٹی کی جانب سے اس کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سمیت آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور دیگر سیاسی مطالبات قرار دیا گیا ہے۔
لانگ مارچ کے اعلان کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے مارچ مؤخر یا ختم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے موجودہ حالات میں صوبہ لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
بعد میں پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو مارچ کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔ موجودہ منصوبے کے مطابق مارچ پہلے پشاور سے صوابی کی جانب جائے گا اور اس کے بعد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔
آج اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے جس میں پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں، اب مذاکرات کا دوسرا دور کل دن دو بجے ہو گا۔



