فرانس میں تعلیمی مسائل کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے بعض مقامات پر پُرتشدد ہونے کے بعد آج تقریباً 400 اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہنے کا امکان ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانس کے وزیر تعلیم ایڈورڈ گیفرے نے جمعرات کی شب فرانس 2 ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں 400 سے کچھ زیادہ اسکول اور تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو جمعے کو بند رہیں گے۔
فرانسیسی وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کے قریبی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس میں بتایا کہ احتجاجی تحریک کا آغاز بائیں بازو کی سخت گیر جماعتوں کے سیاست دانوں نے کیا، جن میں لا فرانس انسومیز (ایل ایف آئی) کے ارکان بھی شامل ہیں۔
3/4 WHY ARE STUDENTS PROTESTING?
At Lycée Paul-Eluard in Saint-Denis, students cite teacher shortages, overcrowding & deteriorating facilities.
In Lille and Lyon, protesters clashed with police, fires and projectiles were reported#RTXON #Lycéens #LaCasaDeLosFamososMéxico pic.twitter.com/0a6Ig4rI1o
— The Wonk (@thewonkin) October 1, 2026
تاہم ایل ایف آئی کے رکن پارلیمنٹ لوئی بوئار نے فرانسیسی نشریاتی اداروں سے گفتگو میں اس دعوے کی تردید کی ہے۔
اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے علاقے میں شروع ہوا تھا، جو بعد ازاں ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔
احتجاج کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا۔
حکام کے مطابق جمعرات کو طلبہ نے کم از کم 2 ہائی اسکولوں میں آگ لگا دی، جبکہ جنوبی شہر مارسی میں ایک تیسرے اسکول میں اساتذہ پر غیر ارادی طور پر پٹرول کے چھینٹے پڑے۔
مشرقی شہر اسٹراسبرگ میں کم از کم ایک گاڑی کو آگ لگا دی گئی، جبکہ جنوب مغربی شہر تولوز میں پولیس کی انسدادِ ہنگامہ آرائی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
ادھر بھارت میں بھی ‘جین زی’ دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔
Protesters trying to reach Jantar Mantar are being stopped and detained by Delhi Police.
Delhi Police has denied permission for the October 2 protests against CEC Gyanesh Kumar. Section 163 of the BNSS is in force in New Delhi, and police have put up multi-layer barricades on… pic.twitter.com/mdfKcU7Uoz
— The Quint (@TheQuint) October 2, 2026
اس سے قبل جولائی میں بھی انہوں نے جنتر منتر پر تعلیمی نظام کی خرابی، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور بدانتظامی کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں کئی روز شدید احتجاج کیا تھا۔
مظاہرین کے بڑے مطالبات میں تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ شامل تھے۔
پہلے تو بھارتی حکومت نے بزورِ طاقت احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی مگر ‘جین زی’ کی ثابت قدمی کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو 25 جولائی 2026ء کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد جنتر منتر پر موجود مظاہرین نے جشن بھی منایا۔



