تحریک انصاف کا لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا۔
ہم نیوز کے پروگرام ہم دیکھیں گے کے اینکر منصور علی خان کا کہنا تھا کہ کل حکومتی اور اپوزیشن ارکان مل کر بیٹھیں گے، کسی معاملے پر اتفاق ہو گا یا نہیں، کیا ان مذاکرات کے ذریعے کوئی بریک تھرو ہو سکتا ہے۔
اس کے جواب میں تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ یہ ملاقات اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے جو پس پردہ بہت سی چیزیں ہوتی ہیں، بیرسٹر گوہر خان کی پچھلے تین دن کے اندر پس پردہ ملاقاتیں بہت اہم ہیں جس میں کچھ شرفاء بھی شامل ہیں جن کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں لیکن خیبرپختونخوا سے ضرور ہے۔
منیب فاروق نے کہا کہ پچھلے تین سے چار دن کے اندر چیزیں اوپر نیچے ہوتی رہی ہیں لیکن جو مثبت چیز ہمارے سامنے ہے کہ جیسا لگ رہا تھا کہ چیزیں بہت خرابی کی طرف جا رہی ہیں، اس وقت تھوڑی سی مثبت خبر مذاکرات ہیں۔
کسی کی بھی سیاست ریاست کے معاملات سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیے عمران خان کا مسئلہ اور ان کی ڈیمانڈ کی بہت اہمیت ہے، جبکہ وفاق یا سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کے لیے جو چارج شیٹ بنائی ہوئی ہے اس کی زیادہ اہمیت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج کی پریس کانفرنس کا آخری نوٹ یہ تھا کہ کسی کی بھی سیاست ریاست کے معاملات سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔
منیب فاروق نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کو آئینی طریقے سے کچھ ڈائریکشن دی جائیں تاکہ یہ کہا جا سکے کہ وفاق نے خیبرپختونخوا حکومت کو واضح ڈائریکشن دی تھیں لیکن ان کا بہاؤ لانگ مارچ احتجاج اور ڈیمانڈ کی طرف ہی تھا، اگر چار مارچ کا لانگ مارچ ختم کیا جاتا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہو گا۔
اسلام آباد اب تک ایجنڈے میں شامل نہیں
کیا پی ٹی آئی اپنی ڈیمانڈ سے پیچھے ہٹ جائے گی اور چار اکتوبر کا مارچ ملتوی کر دے گی، اس پر بات کرتے ہوئے علینہ شگری نے کہا کہ جب ایمرجنسی نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے سے متعلق بات کرتے ہیں تو پی ٹی آئی کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ جو عوامی ردعمل ہو گا وہ بڑا سخت ہو گا، عوام اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے پی ٹی آئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مارچ لکی مروت سے شروع ہو گا اور دس اکتوبر کو وہ صوابی تک پہنچیں گے اور پی ٹی آئی دکھائے گی کہ لوگ ان کے ساتھ ہیں، ان کا کہنا تھا اب رابطے ہو رہے ہیں کل مذاکرات بھی ہونے جا رہے ہیں تو بظاہر تو یہ نظر آ رہا ہے کہ معاملات چند روز کے لیے ٹل ضرور رہے ہیں۔
علینہ شگری نے پی ٹی آئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اب تک ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جو بیان سامنے آیا ہے کہ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، یہ بھی واضح پیغام ہے۔



