نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ نوجوانوں کے مظاہروں کے دوران انہیں بُرا بھلا کہنے والے مظاہرین کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانی کی غلطیوں کا جواب قانونی کارروائی نہیں بلکہ رہنمائی ہونی چاہیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے بعد ازاں بے روزگاری اور طرز حکمرانی کے خلاف عوامی احتجاج میں تبدیل ہوگئے، جس کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے۔
مودی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ جنتر منتر پر ہونے والے مظاہروں میں بعض شرپسند نوجوانوں نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کی مرحوم والدہ کو بھی نازیبا الفاظ کا نشانہ بنایا، تاہم وہ انہیں معاف کرنا چاہتے ہیں۔
مودی نے کہا کہ نوجوانی میں ہونے والی غلطیوں کی اصلاح مقدمات یا قانونی کارروائیوں سے نہیں بلکہ رہنمائی سے ہونی چاہیے۔
Abuses never solve anything.
Let’s guide the misguided.
Let’s work together.
Let’s work for Bharat. pic.twitter.com/yAePG60KYL
— Narendra Modi (@narendramodi) July 31, 2026
رپورٹس کے مطابق مظاہروں کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد بعض مظاہرین کو آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پولیس نے ان کے خلاف شکایات بھی درج کیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مبینہ طور پر توہین آمیز اور تبدیل شدہ مواد ہٹانے کی درخواست کی۔
واضح رہے کہ نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے ان مظاہروں کو منظم کیا، جس نے مختصر عرصے میں سوشل میڈیا پر بڑی مقبولیت حاصل کر لی۔ پارٹی کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ مودی کی جماعت کے انسٹاگرام پر تقریباً 96 لاکھ جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی کے فالوورز کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
‘معافی مودی جی کو مانگنی چاہیے’
مودی کے ‘عام معافی’ کے اعلان پر طنز اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ اپنی اولاد کھونے سے بڑا دکھ کوئی نہیں، پیپر لیکس اور مودی کے کرپٹ نظام تعلیم کی وجہ سے جن لوگوں کے بچوں کی جان گئی، وہ لوگ ساری عمر اس غم کیساتھ جئیں گے۔
“اور پھر بھی وزیرِ اعظم میں یہ جرأت ہے کہ وہ طلبہ کو ‘معاف’ کرنے کی بات کرتے ہیں۔” کیا انہوں نے کبھی کسی ایسے غمزدہ خاندان سے ملاقات کی ہے جس نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو کھو دیا ہو، یا اُن طلبہ اور والدین سے جو پرچہ لیک ہونے کے باعث اپنی عمر بھر کی جمع پونجی، قیمتی وقت، برسوں کی محنت اور سنہرے خواب گنوا بیٹھے ہیں؟ “جواب ہے: نہیں!”
अपने बच्चों को खोने वाले माता-पिता के आंसू, उनका बिलखना – इससे बड़ा कोई दुःख नहीं होता।
ये एक ग़म उनके साथ हमेशा जिंदा रहेगा – और साथ ही रह जाते हैं इस टूटी और भ्रष्ट education system के बारे में कई सवाल।
पेपर लीक | रद्द परीक्षाएं | सालों की तैयारी एक पल में बर्बाद – हमारे… https://t.co/vBNOyxJKSu
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 1, 2026
انہوں نے کہا کہ بھارت کے طلبہ کو وزیرِ اعظم کی معافی کی ضرورت نہیں، بلکہ “مودی جی کو طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔”
‘ہم بھی معافی قبول کرتے ہیں’، دھرو راٹھی کا طنز
اسی طرح معروف بھارتی یوٹیوبر دھرو راٹھی نے بھی مودی پر طنز کے تیز برساتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار 75 سال کی عمر میں مودی جی کو اتنی سمجھ آ گئی ہے کہ گالیاں دینا بُری بات ہے، حالانکہ انہوں نے اپنے سارے کیرئیر میں دوسروں کو گالیاں ہی دی ہیں۔
انہوں نے مودی کی جانب سے سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور دیگر لوگوں کے لیے کہے گئے برے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ بات وہ خود کو اور بی جے پی کے دیگر رہنماؤں کو بھی سمجھا دیں کہ گالی دینا بری بات ہے۔
Dear Modi Andhbhakts,
I accept your apology #GaaliFromFrand pic.twitter.com/Ekpi9av1l5— Dhruv Rathee (@dhruv_rathee) August 1, 2026
اس کے ساتھ ہی انہوں نے متعدد بی جے پی رہنماؤں کی ان پوسٹوں کے اسکرین شارٹس دکھائے جن میں وہ دھرو راٹھی اور دیگر لوگوں کو کمنٹس میں برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برا بھلا کہنے والے ان سارے اکاؤنٹس کو مودی جی بھی فالو کرتے ہیں۔
راٹھی نے استہزائیہ انداز میں کہا کہ میں بھی ان لوگوں کی معافی قبول کرتا ہوں۔
