بھارت میں لگ بھگ ڈیڑھ ماہ سے جاری طلبا احتجاج کو اہم کامیابی ملی ہے، ان کے مطالبے پر بھارتی وزیر تعلیم پردھان منتری نے بالآخر استعفیٰ دے دیا ہے۔
یہ استعفیٰ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر بھارت بھر اور بالخصوص نئی دہلی میں طلبا، نوجوانوں اور اپوزیشن کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔
— Dharmendra Pradhan (@dpradhanbjp) July 25, 2026
وزیر تعلیم کے استعفے کی خبروں پر کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اچھ ہوا جو استعفیٰ دیدیا۔
جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے آج دوپہر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کو شام 4 بجے سے پہلے وزیرِ تعلیم کے استعفے پر ہاں یا ناں میں جواب دینا ہو گا۔ بصورتِ دیگر احتجاج کو پورے ملک میں پھیلانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
View this post on Instagram
طلبا تنظیموں، کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوانوں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دے رکھا ہے اور دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔
‘باقی مطالبات پورے کرو’
پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے دیگر دو دیرینہ مطالبات ابھی منظور ہونا باقی ہیں، جن میں پیپر لیک ہونے کی وجہ سے خودکشی کرنے والے طلبا کے اہلِ خانہ کے لیے ایک کروڑ بھارتی روپے، اور ملک کے کسی بھی حصے میں اس معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف حکومتی کارروائیاں بند کرنا شامل ہیں۔
The Cockroach Janta Party Demands Update:
1. Dharmedra Pradhan must resign ✅
2. 1 crore to the families of all students who died by suicide – PENDING
3. No action against any of the student protesters – PENDING: CJP Chief
— Cockroach Janta Party (@CJP_for_India) July 25, 2026
اس کے ساتھ بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بھی مودی حکومت سے تین مطالبات کیے تھے، جن میں “کرپٹ” وزیر تعلیم کا استعفیٰ، طلبا پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی، اور وزیر اعظم مودی کا معافی مانگنا شامل ہیں۔
احتجاج شروع کیسے ہوا؟ مطالبات تھے کیا؟
یہ احتجاج میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے انکشاف کے بعد شروع ہوا تھا۔ پرچے لیک ہونے کے باعث 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جس نے ملک کے تعلیمی نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا۔
مظاہرین کے 6 بنیادی مطالبات تھے کہ:
- منظم پرچہ لیک نیٹ ورکس کے لیے کم از کم سزا 3 سال سے بڑھا کر 10 سال کی جائے، غیر قانونی آمدن ضبط کی جائے، جرمانے بڑھائے جائیں اور ملوث افراد پر مستقل پابندی عائد کی جائے۔
- ہر پرچہ لیک کے معاملے پر متعلقہ وزیر پارلیمنٹ میں وضاحت دیں اور کیے گئے اقدامات سے ایوان کو آگاہ کریں۔
- ہر پرچہ لیک پر ازخود سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کرائی جائے، 30 روز میں رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے اور اگلے 30 روز میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی مکمل کی جائے۔
- امتحانات کی خرابیوں کی تحقیقات، امیدواروں کو ریلیف دینے اور لازم ہدایات جاری کرنے کے اختیارات کے ساتھ آزاد امتحانی محتسب اور وینڈر اتھارٹی کا قیام
- ہر امتحانی ادارے کا آڈٹ ہو، اور عوام کو جانچ پڑتال کا اختیار ہو
- تام ریاستوں کے لیے ماڈل فریم ورک قائم کیا جائے تاکہ وہاں بھی امتحانات کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
View this post on Instagram
ابتدائی طور پر تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے طلبا احتجاج کو قابلِ توجہ نہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کیا، مگر معاملہ طول پکڑنے اور طلبا کی جانب سے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے اعلان کے بعد بزورِ طاقت احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس دوران نہ صرف جنتر منتر اور ملحقہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کی بلکہ طلبا پر لاٹھی چارج کیا، واٹر کینن فائر کیے، اور آنسو گیس بھی پھینکے۔
The Delhi Police striking a protester on the head with a lathi amounts to attempted murder,
It is condemnable and strict action must be taken against the guilty police personnel.
This is not crowd management, it is a brutal assault. pic.twitter.com/FiYOviuDW1
— The Dalit Voice (@ambedkariteIND) July 24, 2026
جب طلبا ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال کے بعد بھی پیچھے نہ ہٹے تو مودی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انہیں امتحانی پرچے لیک کرانے میں ملوث افراد کو فوری سزا دینے کے لیے “فاسٹ ٹریک” عدالتیں قائم کرنے کا چورن بیچنا چاہا۔
Nothing is more important than the welfare and future of our youth!
We have decided to set up fast-track courts to ensure swift and stringent punishment for those involved in paper leaks. Have directed the concerned authorities and officials to take all necessary steps in this…
— Narendra Modi (@narendramodi) July 23, 2026
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مظاہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ برقرار رکھا تھا۔
